تاریخ افکار اسلامی — Page 89
تاریخ افکار را سلامی 19 مذکورہ آیت کریمہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط اسی بات کو ثابت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ خاص سمجھ بوجھ کے مالک ہوتے ہیں اور حکمت اور وجہ معلوم کرنے کا عمدہ ملکہ رکھتے ہیں عملی طور پر بھی ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ حسب ضرورت قیاس سے کام لیتے رہتے تھے۔مثلاً۔++ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس گھبراہٹ کا اظہار کیا کہ اس کی بیوی کے ہاں کالے رنگ کالڑ کا ہوا ہے اور اس وجہ سے اسے شبہ ہے کہ یہ اس کالڑ کا نہیں ہے۔حضور نے اسے سمجھانے کے انداز میں فرمایا کیا تمہارے اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کیا ہاں حضور کافی اونٹ ہیں۔آپ نے پوچھا ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا سرخ رنگ کے ہیں۔آپ نے پوچھا ان میں کوئی کالے بھورے رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے عرض کیا ہاں حضور ایک ایسا بھی ہے۔آپ نے فرمایا: سرخ اونٹوں میں یہ کالے بھورے رنگ کا کہاں سے آگیا ؟ اس نے عرض کیا شاید کوئی رگ جو کسی اونٹ میں تھی اس کا موجب بنی ہو۔آپ نے فرمایا کہ تیرے بیٹے کے بارہ میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ شاید تیری کوئی نسلی رگ اس کا باعث بنی اور اس کے رنگ پر اثر ڈالا ہو لے - قرآن کریم میں دو بہنوں کو بیک وقت بیوی بنا کر رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قیاس کرتے ہوئے خالہ اور بھانجھی۔پھوپھی اور بھتیجی کو جمع کرنے سے منع فرمایا اور وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا فَإِنَّكُم إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ قَطَعْتُمْ اَرْحَامَكُم " کہ اگر تم ایسا کرو گے تو خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی کے مَوَدَّت کے رشتہ کو مجروح کرو گے۔مین کے علاقہ میں ایک عورت نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے خاوند کو قتل کر دیا۔حضرت عمر کے سامنے یہ کیس آیا تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔کہ کیا ایک مقتول کے بدلہ میں زیادہ کو قتل کیا جا سکتا ہے۔حضرت علی نے کہا کہ اگر ایک اونٹ کو چُرا کر کئی لوگ ذبح کر کے اس کا گوشت آپس میں بانٹ لیں تو کیا سب کو سزا نہیں ملے گی پس جس طرح ایک اونٹ کو چرانے اور لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرَقَ قَالَ وَ هَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرق (ابو حنيفه صفحه ۱۷۰) مالک بن انس صفحه ۱۶۷