تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 277
۲۷۶ ہمیں جماعت کے کاموں میں ہمیشہ خدا تعالے کی شان اور اس کی قدرت نظر آتی ہے اور دل عجیب کیف و سرور سے بھر جاتا ہے۔اللہ تعالے نے قدم قدم پر جماعت کو اپنی خاص تائید و نصرت اور فضل و رحمت سے نوازا ہے۔ہم عملاً مشاہدہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ خدا اتنا نے اس جماعت کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور پیروی کی برکت سے خدائی نصرت کو جذب کیا ہے اور جماعت کو اس سے مالا مال فرمایا ہے۔جب خدا نے ہمیں اپنی خاص تائید و نصرت کا حامل بنا یا ہے تو پھر ہمیں ڈرکس بات کا ہے۔قدرت کے عناصر بھی خدا تعالے نے ہمارے لئے مسخر کر دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔اسی طرح دوسرے خناصر کا حال ہے۔شہ الٹ کے فسادات جب عروج پر تھے تو اس وقت بھی خدا تعالے کی اسی موجودہ تائید و نسرت کی وجہ سے ہمارے دل مطمئن تھے کہ وہ ضرور اس جماعت کی حفاظت کرے گا۔پس جیسا کہ خدا تعالے اپنے وعدہ کے موافق ہمیشہ ہماری حفاظت کرتا رہا ہے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کے دین کی خدمت کرنے میں اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کر یں۔اس کے دین کو دنیا میں پھیلائیں اورر پھیلاتے پہلے جائیں یہاں تک کہ ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو، اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض یہ تمام و کمال پوری ہو جائے۔انصاراللہ کے اس بنیادی فرض کے ضمن میں میں انکو اُن کی ایک اہم ذمہ داری کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دیں اور انہیں دین کا خادم بنائیں۔انصار اللہ میں سے اکثر صاحب اولاد ہیں۔وہ اپنے بچوں سے بے غرض محبت کرتے ہیں اور اپنے بچوں سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی ان سے محبت کریں اور ان کے اطاعت گزارہ نہیں۔اگر کسی کا بچہ آوارہ ہو جاتا ہے تو اس کے والدین کو بہت دکھ پہنچتا ہے لیکن ایک باپ اپنے بچے سے جتنی محبت کرتا ہے خدا اپنے بندہ سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہے۔اگر اس کا کوئی بندہ اس سے فائل ہو جائے تو اُسے یہ بات بہت شاق گزرتی ہے۔میں تمہیں چاہیے کہ ہم اپنے بالوں سے بڑھ کر پس خدا تعالیٰ سے محبت کریں اور اپنے بچوں کی بھی اس طرح تربیت کریں کہ وہ بھی خدا تعالے کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دیں اور اس کے حقیقی عہدہ بن کر اس کے دین کی خدمت کو لازم پکڑیں۔اسی طرح انصار اللہ کو چاہیے کہ وہ اپنی دوسری ذمہ داریوں کو میعی پوری مستعدی وجین کارکردگی ا