تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 270 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 270

صاحب ناظم اعلی مجلس انصاراللہ سابق صوبہ سندھ و بلوچستان کی درخواست پر انصار اللہ کے نام جو پیغام ارسال فرمایا اور بعد اجتماع کے افتتاحی اجلاس میں پڑھا گیا وہ درج ذیل ہے :- برادران ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ گذشتہ سے پیوستہ سال بھی نہیں باندھی کے اجتماع میں شریک ہونے سے قاصر یہ ہا اور ناظم اعلیٰ مجالس انصار الله سابق شدھ و بلوچستان کے پینم اصرار کے باوجود اس سال بھی میں مجلس مشاورت کے قرب اور دیگر مرکزی مصروفیات کی وجہ سے آپ کے اس اجتماع میں شریک نہیں ہو رہا جس کا مجھے افسوس ہے۔مکرم مولوی ابو العطاء صاحب قائد اصلاح و ارشاد مجلس انصاراللہ مرکزیہ کو اس اجتماع میں شرکت کے لئے بطور نمائندہ بھجوا رہا ہوں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب بنائے اور اس میں شریک ہونے والے قبلہ احباب اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی محسوس کریں۔آمین۔ہم ناچیز بندوں پر اللہ تعالے کا بے انتہا کرم ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانہ کے مامور کو پہچاننے کی سعادت بخشی ہو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لو كان الايمان معلقاً بالثريا لثالة من جيل من ابناء فارس کے مطابق دنیا میں اس وقت آیا جبکہ دنیا سے اسلام اٹھ چکا تھا۔فرمان نبوی کے مطابق وہ موجود مرسل دنیا میں دوبارہ اسلام لایا اور اس نے ہمیں اپنی بیش بہا تصانیف کے ذریعہ اسلام سے از سر نو روشناس کرایا۔علوم سماوی کے ان بیش بہا خزائن کے متعلق حضور فرماتے ہیں:۔مجھ کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے اور اس قدر میری کلام کو معرفت کے اسرار سے بھر دیا کہ جب تک انسان خدا تعالے کی طرف سے پورا تائید یافتہ نہ ہو اس کو یہ نعمت نہیں دی جاتی ہے انجام آنهم ما طبع دوم) نیز فرماتے ہیں :۔نجھے جو دیا گیا وہ محبت کے ملک کی بادشاہت اور معارف الہی کے خزانے ہیں، جن کو افضلہ تعالئے اس قدر دوں گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے یہ (ازالہ اوہام ص ۸۵ علیہ ص ۸۵۶ طبع اول)