تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 256
۲۵۵ مجلس انصاراللہ مرکز یہ کا اٹھارہواں سالانہ اجتماع ۱۳۵۲ مجلس انصارالله مرکز یہ کا ۱۸ واں سالانہ اجتماع مورخه ۹ ۱۰ ۱ نبوت / نومبر احاطر انصاراله - - سال است میں منعقد ہوا۔اجتماع کا افتتاح حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اجتماعی دعا اور اپنے خطاب سے فرمایا۔حضور تین بیک به منظیر مقام اجتماع میں تشریف لائے۔تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اس کے بعد فرمایا۔حضرت امیر المومنین کا افتتاحی خطاب میں نے اس دفعہ نظام، افعال اور جنات کے سالانہ اجتماعوں کے مواقع پر جہ تقاریر کیں ان میں ایک ہی مضمون مختلف پیرایوں میں بیان کیا تھا اور وہ یہ کہ ابتدائے آفرینش سے شیطان اور انسان کے درمیان جو جنگ شرون ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی۔یعنی آپ نے اس جنگ کا انتاج فرمایا۔جس کی آخری لڑائی آپ کے ارتی جرنیل مہدی معہود کے زمانہ میں مقدر تھی اور جس کے نتیجہ میں شیطان نے ہمیشہ کے لئے مغلوب ہونا تھا اور ساری دنیا نے اسلام کے جھنڈے تلے اُمت واحدہ بن کر جمع ہو جانا تھا۔اگر یہ حقیقت ہے کہ مہدی معہود کی بعثت ہو چکی ہے اور خیر و شر کے درمیان آخری لڑائی شروین ہو چکا ہے تو پھر سوچو اور غور کرو کہ مہدی معہود کی طرف منسوب ہونے والی جماعت پر اور اس کے ہر حصہ ار بر طبقہ پر کتنی عظیم اور اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں گور نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں باطل کا حملہ پسپا ہو چکا ہے لیکن روحانی اسلحہ کے ساتھ باطل پر جارحانہ یلغار بھی جاری ہے اور ہو۔سه الفضل ار نبوت / نومبر ۱۳۵۷ میش / 1464