تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 255 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 255

۲۵۴ نے اسکاٹ لینڈ کے رہنے والے ایک تو سلم انگریز عبدالجبار سیل کی بیعت قبول فرمائی۔یہ صاحب میں سال قبل اس بر صغیر میں آئے تھے میں مسلمان ہوئے اور میں شادی کی وہ کچھ عرصہ سے احباب کراچی کے زیر تبلیغ تھے حضور پون گھنٹہ تشریف فرما رہے۔بیعت کے بعد حضور نے دعا فرمائی ، حضور کی واپسی کے بعد شوری کا اجلاس ہوا جو ساڑھے دس بجے تک جاری رہا۔ساتواں اجلاس بروز اتوار بعد نماز تهجد و فجر مواد شیخ مبارک احمد صاحب نے قرآن کریم کا درس دیا اس کے بعد مرزا برکت علی صاحب اور حکیم سید پیر احمد صاحب آف سیالکوٹ اور مولوی قدرت اللہ صاحب سفوری نئے ذکر جیب کے سلسلہ میں اپنی روایات بیان کیں۔اس اجتماع کا آٹھواں اور آخری اجلاس نو بجے شروع جوا قاضی محمد نذیر صاحب نے قرآن کریم کا درس دیا پھر شیخ عبد القادر صاحب مربی نے موعود کل ادیان کے موضوع پر تقریر کی اس کے بعد پروفیسر حبیب اللہ خان نے حضرت مسیح موعود کے ملفوظات سے حضور کی بعثت کی غرض بیان کی۔بعد ازاں مرزا عبدالحق صاحب نے اللہ تعالیٰ کے فتح و نصرت کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کی روشنی میں بیان کئے، پھر مولانا غلام احمد صاحب فرخ نے حضور کے ملفوظات میں ان وعدوں کا جو ذکر ہے وہ بیان کیا۔بعد ازاں مولانا ابو العطاء صاب نے یہ واضح کیا کہ ان وعدوں کی روشنی میں انصار اللہ کی کیا ذمہ داریاں ہیں پھر شیخ مبارک احمد صاحب نے ان وعدوں کے پیش نظر تربیت اولاد کے فریضیہ پر اور مولانا عبدالمالک خانصاحب نے ان وعدوں کو قریب تر لانے کیلئے دعاؤں کی ضرورت پر روشنی ڈالی، ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ حضرت امیرالمومنین اختتامی خطاب کے لیے تشریف لے آئے حضور کے خطاب کو سننے کیلئے استقدر لوگ تشریف لائے کہ طلبہ گا ہائیر ہوجانے کے بعد یا مہر میدان میں میں بیٹھے گئے حضور نے سورہ حم سجدہ کی آیات اس تا ۲۴ سے آغاز کیا اور ان الذین قالوا ربنا الله شهر استقاموا تتنزل عليهم الملكة - من المسلمین کی تفسیر بیان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیم کی قوت دیتیہ کے طفیل انعامات الہیہ کے۔۔جاری ہونے اور پھر اس آخری زمانہ میں حضور ہی کے طفیل اپنی انعامات کے از سر نو عام ہونے پرتفصیل سے روشنی ڈال اور ان انعامات کے حصول کی راہ میں پیش آنیوالے خطرات یعنی عجب خود پسندی، کبر و غرور اتعلی و تفاخر وغیرہ اور ان کی مغفرتوں کو تفصیل سے بیان کیا اور ان خطرات سے بچنے کے قرآنی طریق کی وضاحت فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کے ارشادات بھی پڑ سنگر سنائے۔اس سلسلہ میں حضور نے خلافت راشدہ کی اہمیت پر روشنی ڈال اور موعود کے ارشادات پڑھ سلسہ میں حضورنے راشدہ کی پر حدیث نبوی الا ماه جنة کی تشریح فرمائی۔آخر میں حاضرین نے حضور کی اقتدا میں عہد دہرایا پھر تمامی دا کیساتھ ایک بجے اجلاس برخاست ہوا۔له الفضل ۵ نبوت نومبر ۱۳۳۵ پیش له