تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 245
۲۴۴ چھینٹوں کو لوگوں تک بھی پہنچائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم وحی تو الگ ہی خدا تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والی ہر چیز کی قدر کرتے تھے، ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ باہرنکل آئے او راپنی زبان با ہر نکال لی اس پر بارش کا ایک قطرہ پڑا تو آپ نے فرمایا یہ خدا کی رحمت کا تازہ نشان ہے، تو قرآن کریم تو الگ رہا آپ نے بارش کے ایک قطرہ کو بھی خدا تعالیٰ کا تازہ نشان قرار دیا۔اب اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی کشف ہو جاتا ہے یا کوئی الہام ہو جاتا ہے تو وہ تو یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا تازہ نشان ہے پھر وہ تحدیث نعمت کیوں نہ کرے - تحدیث نعمت بھی خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرنے کا ایک طریق ہے دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اب تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کا وقت آگیا ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور ہم نے تمام غیر ممالک میں مساجد بنائی ہیں اس وقت ہمارے ملک کے ایکسچینچ کی حالت پور می طرح مضبوط نہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ فضل کرتا رہا ہے اور ہمارے کام چلتے رہے ہیں کیونکہ ہماری باہر کی بعض جماعتیں اب مضبوط ہوگئی ہیں مثلاً افریقہ کی جماعتیں وغیرہ اور پاکستان کے قوانین کے ماتحت نہیں، اس لیے ان لوگوں نے مساجد کی خاطر جو جماعت کو پونڈ اور ڈالر دیئے ہیں ان سے کسی حد تک کام چلتا رہا ہے مگر وہ جماعتیں ابھی کم ہیں وہ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں، ان کا بوجھ بٹانے کا طریق یہی ہے کہ یہاں کا بوجھ یہاں کی جماعتیں اٹھا لیں اور ان کو اس بوجھ سے فارغ کر دیا جائے تا کہ وہ غیر ملکوں میں مسجدیں بنائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ (فلپائن ) میں بھی ترقی ہوئی ہے اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں میں جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائینگی امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔یہ امریکہ میں تبلیغ کا ہی اثر ہے کہ ہم امریکہ میں تبلیغ کرتے ہیں تو مصری اور شامی متاثر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ہیں جماعت ہے جو اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور اس طرح قدرتی طور پر انہیں ہماری جماعت کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ یدعون لك ابدال الشام ابدال شام تیرے لیے دعائیں کرتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ شام میں جماعت پھیلے گی۔پس دوستوں کو دعا کرنی چاہیئے کہ للہ تعالی جماعت کے لیے سہولت پیدا کرے اور وہاں جماعت کو کثرت سے پھیلائے تاکہ ابدال شام پیدا ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام تو میں نہیں نہیں بیدعون لک کے بھی معنی ہیں کہ وہ جماعت کے لیے دعائیں