تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 244 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 244

۲۴۳ یر انبیاء کے لیے ہی حکم ہے کہ وہ انکسار کے مقام کو قائم رکھیں اور بیشک خداتعال کی تازہ ہی کی جو بارش ان پر نازل ہو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر کریں، لیکن لوگوں کویہ نہ کہیں کرتم ہماری بات ضرور مانو، ہاں نبی کا کام یہ ہوتا کہ وہ لوگوں سے کسے کہ تم میری باتیں مانو نہیں تو تمہیں سزا ملے گی، لیکن غیر نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایمان کی زیادتی کے لیے خواب بیان کردیتا ہے ، لیکن وہ کسی سے یہ نہیں کہا کہ تم میری بات ضرور مانو ، وہ سمجھتا ہے کہ جب میں غیر نبی ہوں تو اگر خدا تعالیٰ نے میری بات کسی سے منوانی ہے تو وہ خود اس کے لیے کوئی صورت پیدا کر دیگا، مجھے اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں ، سکین کیا اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ وہی پر زور دے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسس سے ایسے زنگ میں کلام کرتا ہے میں رنگ میں وہ اور کسی سے کلام نہیں کرتا اس لیے اگر کوئی شخص میری بات نہیں مانے گا تو اس کو سرا ہے گی اور اسی وجہ سے رو تحدی کرتا ہے ، لیکن وہ سرا شخص ایسا نہیں کر سکتا۔پس جس شخص کو کوئی رویا یا کشف ہو اسے وہ رویا با کشف اخبار میں چھپوانے کے لیے بھیج دینا چاہیے ، آگے الفضل والوں کا کام ہے کہ وہ اسے شائع کریں یا نہ کریں۔یہ بھی غلط طریق ہے کہ بعض لوگ مجھے کہ دیتے ہیں کہ افضل ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا۔وہ بیشک نہ چھاپہلے تم چپ کر رہو کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا نشا نہیں کہ وہ چھپے ، لیکن اس میں خود الفضل والوں کا اپنا فائدہ بھی ہے کیونکہ اس سے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کو کوئی رویا با کشف یا الہام ہوتا ہے اور وہ شائع ہو جائے تو دوسروں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم تو جہ کریں تو خدا تعالی کی طرف سے ہمیں بھی کوئی رویا یا کشف یا الہام ہو جائے گا اس طرح الفضل سلسلہ کی ایک خدمت کریگا۔وہ جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوگا ، لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالی خود گرفت کریگا۔آپ لوگوں کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اسے اس طرف توجہ دلائیں لیکن اگر الفضل نہ چھاپے تو پھر اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اصرار نہ کریں کہ افضل ہماری خواب شائع کرے۔ایڈیٹر آزاد ہوتا ہے اس کی مرضی ہے کہ کوئی چیز شائع کرے یا نہ کرے، اگر وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا تو خدا تعال خود اس سے سمجھ لے گا۔آپ اس پر داروغہ نہیں ہیں۔اللہ تعالی تو قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو، پھر تم دارونہ کہلانے والے کہاں سے آگئے۔بہر حال آپ انصار اللہ کے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کریں اور انصار اللہ کے معنی بھی ہیں کہ وہ رہا ہے سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں ، میں نے بتایا ہے کہ روحانی طور پر دین کی خدمت یسی ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالی کی طرف توجہ کریں اھا اگر اس کی طرف سے بارش کا کوئی چھینٹا آپ پر بھی پڑ جائے تو ان