تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 156
۱۵۵ ہو۔جس مجلس کی تعداد سے زائد ہو تو ہر ۲۰ یا اس کے جزو پر ایک ایک نمائندہ منتخب شدہ زائد ہوتا -> جھائے گا۔بڑی مجالس میں جہاں زعیم اعلیٰ مقرر ہو تو وہ بھی بغیر انتخاب مجلس کا نمائندہ ہو گا۔لا ضلعوار نظام کے ماتحت ناظم ضلع کو بھی بلحاظ عمدہ نمائندگی کا استحقاق حاصل ہوگا۔اس کے علاوہ مجلس چک نمبر ۸۹ شمالی ضلع سرگودھا کی تجویز پر که صحابه حضرت مسیح موعود علیه السلام اب چونکہ بہت قلیل تعداد میں رہ گئے ہیں اس لیے ان کو اجتماع انصار اللہ میں تعداد پر نمائندگی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔وہ زعیم وغیرہ عہدہ داروں کی طرح بحیثیت صحابی اجتماع میں شامل ہوسکیں؛ صحابہ کرام کی شمولیت کو بحیثیت صحابی منظور کر لیا گیا۔شوری میں جو تجاویز زیر غور آتی ہیں اس کا طریق کار یہ ہے کہ جو رکن کوئی تجویز پیش کرنا ایجنڈا کی تیاری انے میں کسی سے مروی ہے وہ جو بر کرانا اور میں الفاظ میں رب کر کے مقامی مجلس میں پیش کرے اگر مقامی مجلس میں زیر غور آکر مجلس شوری میں پیش کرنے کے قابل سمجھی جائے تو پھر مقامی مجلس کی طرف سے ایجنڈا میں شامل کئے جانے کے لیے مرکزی مجلس کے پاس بھیج دی جاتی ہے مرکزی مجلس عاملہ تمام موصول شدہ تجاویز پر غور کرتی ہے اور جو اس قابل ہوتیں ہیں کہ ان پر رائے لی جائے انھیں با قاعدہ ایجنڈا میں شامل کر لیا جاتا ہے۔بعض تجاویز ایسی ہوتی ہیں جو غیر معین اور مسلم سی ہوتی ہیں یا انکے بارے میں سابق میں فیصلے ہو چکے ہوتے ہیں یا وہ کسی پہلو سے مفاد سلسلہ کے منافی ہوتی ہیں انہیں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اگر کوئی مرکزی قائد اپنی قیادت سے متعلق کوئی معاملہ زیر غور لانا چاہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ تجویز کو معین شکل دیگر پہلے مجلس عاملہ میں پیش کرے اگر مجلس عاملہ مرکز یہ اسے قابل غور سمجھے تو اسے ایجنڈا میں شریک کر لیا جاتا ہے ورنہ نہیں۔شورئی میں تمام فیصلہ جات عموماً کثرت رائے سے کئے جاتے ہیں، لیکن فیصلہ کا طریق صدر مجلس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کثرت رائے کو رد کر دے اور اپنے فیصلہ کی اراکین شور مٹی کے سامنے وضاحت کر ہے۔شوری کے تمام فیصلہ جات بلا استثنیٰ خلیفہ وقت کے سامنے بطور مشورہ کے پیش کئے