تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 154 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 154

۱۵۴ چودھواں باب شور کی انصارالله قرآن کریم میں اللہ تعالی آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو اور آپ کی وساطت سے آپ کے تمام نمائندوں کو حکم دیتا ہے کہ شاوِرُ هُمْ فِي الأمر بینی معاملات باہمی مشاورت سے فیصلہ کئے جائیں۔یہی طریق با برکت اور مسنون ہے۔مندرجہ بالا ارشاد باری کی تعمیل میں ۱۳۳۵ پیش میں ہی جب انصار اللہ کا ایک نیا دور شروع ہوا اور $1404 حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صا حب نائب صدر مقرر ہوئے تو آپ نے محسوس کیا کہ مجلس کے سالانہ اجتماعات باقاعدگی سے ہونے ضروری ہیں اور ساتھ ہی یہ محسوس کیا کہ ان اجتماعات سے مشاورت کا فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اس لیے تقسیم ملک کے بعد جب پہلا سالانہ اجتماع مست میشی میں منعقد ہونے لگا تو یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اسی تصور شورٹی انصار اللہ کا بھی انعقاد ہو گا۔چنانچہ اس تاریخ سے باقاعدگی کے ساتھ ہر سالانہ اجتماع پر حسب ضرورت ایک دن یا دو دن شوریٰ کا اجلاس بھی ضرور منعقد ہوتا ہے اور پیش آمدہ مسائل کو منتخب نمائندگان $1900 کے مشورہ سے تصفیہ کیا جاتا ہے۔شوری میں نمائندگی کس طریق پر جو اس بارے میں مجلس عاملہ انصار اللہ مرکز یہ کا ایک نمائندگی کاطریق شوری مین اور اسان ان یا ۱۳۳۵ پیش کو منعقد ہوا اور اس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلاش ۳۰ور احسان / جون ۱۹۵۶ مدام اجتماع میں بھی نظر تعداد اراکین انصار اللہ نمائندگان کی شرکت مندرجہ ذیل نسبت سے ہوگی :- 1 ایسی مجلس جس کے اراکین ۲۰ سے کم ہوں ایک نمائندہ منتخب شدہ۔ب جس مجلس کے اراکین ۲۰ ہوں ایک نمائندہ منتخب شده نیز محلیس کا زعیم بلحاظ عمدہ بغیر انتخاب نمائندہ ہوگا ے ریکارڈ مجلس انصار الله