تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 225 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 225

آپ کے صحابہ کی والدیت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔آخری اجلاس کی تقریریں خاص طور پر بڑی بندپایہ اور سبق آموز تھیں خصوصاً یہ تین تقریریں (۱) قرآن شریف کی رو سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ (۲) احادیث کی رو سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ (۱۳) الهامات حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی رو سے اسلام کی نشانہ ثانیہ بہت ہی برجستہ تھیں اور یہ مضمون تھے میں ایک دوسرے کے موید انصار اللہ کا یہ جلسہ روحانیت آموز اور نہایت مفید اور بابرکت تھا یا انصار اللہ کے آٹھویں سالا اجتماع مولانا شیخ مبارک حد سابق میں میلی متر یا ریلی میں شوری کا اپنےلیے سارت اور زندگی کے بہترین لمحات یقین کرتا ہے۔الحمد للہ کہ اجتماع اپنے مقاصد کے لحاظ سے با برکت نت طور پر ختم ہوا اعلمی اور اجتماعی فوائد و برکات تو ہر حال شامل ہونے والوں کے حصہ میں آئے اردو ایت اور تزکیۂ نفس کے نقطہ نگاہ سے بھی میں بجھتا ہوں کہ یہ اجتماع جماعت کے لیے امیر کا حکم رکھتا ہے اور اللہ تعالی کے اس منشاء کی تکمیل کرتا ہے جس میں امت کی تربیت اور تعلیم کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ہر علاقہ و قوم کے لوگ چند دن مرکز میں اگر رہیں اور پھر روحانیت و اخلاق کی عملی تربیت حاصل کر کے اور واپس اپنے علاقوں میں جاکر اس کے مطابق تعلیم و تلقین کا فریضہ ادا کریں ، خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اجتماع اس منشاء خداوندی کو احسن رنگ میں پورا کرنے والا تھا۔خاکسار نے اس پاک نضا اور بابرکت جلسہ سے بہت فائدہ اٹھایا ہے، اللہ تعالی ہمیں اپنی فضا اور با لت برکتوں سے نوازتا رہے ؟ مقدس چوہدری انور سی ایڈووکیٹ ایر ماتمان ملی شیو پر ایسے تو پاکیزہ اور کو پوره روحانیت سے لبریز اجتماع کہاں میسر آتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اس روحانی سلسلہ کو قائم کر کے ایسے پاکباز ، صالحین اور اللہ تعالے سے ہمکلام ہونے والے بزرگوں کی مجلسوں سے استفادہ کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائی۔مجھے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اجتماع مجمع الانوار والبرکات ہے اور ان انوار و برکات کے زیر اثر نہیں ایک روحانی زندگی مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ صرف پہلے ہی علماء کرام اور بزرگان دین حضرت