تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 106 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 106

1۔4 کشتی السی کو باقاعدگی اور عمدگی سے چلانے کے لیے سب سے پہلے اس امر کی ضرورت ہوتی دفتر کا قیام ہے کہ اس کا ایک قانون کی رواں مقام پر قائم کی جائے اس کے بغیر کام می با قا عدگی پیدا ہوتی ہے اور نہ دلجمعی سے کام ہوتا ہے۔انصار اللہ کی تنظیم قائم ہونے کے بعد قیام دفتر کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی جاسکی۔غالباً اس کی وجہ یہ تھی تنظیم اپنے ابتدائی دور سے گذر رہی تھی اور ذرائع آمد بھی بہت محدود تھے۔اس لیے قریباً دو سال تک منشی عبدالرحیم شرما صاحب تو مسلم سے جو صد را تمین کے ملازم تھے آنریری طور پر کام لیا جاتا رہا، حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی سنہ نے اس خامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جلسہ سالانہ انیش کے موقعہ پر فرمایا باید له مجھے افسوس ہے کہ احباب جماعت نے تاحال انصار الد کی تنظیم میں وہ کوشش نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی ، اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کا ابھی کوئی دختر وغیرہ بھی نہیں انگر دفتر قائم کرنا کس کا کام تھا ؟ بیشک اس کے لیے سرمایہ کی ضرورت تھی مگر سرمایہ مہیا کرنے سے انھیں کسی نے روکا تھا۔شاید وہ کہیں کہ خدام الاحمدیہ کو تحریک جدید سے مدد دی گئی ہے مگر ان کی مدد سے ہم نے کب انکار کیا ، ان کو بھی چاہیے تھا کہ دفتر بناتے اور چندہ جمع کرتے ، اب بھی انھیں چاہیئے که دفتر بنائیں، کرک وغیرہ رکھیں۔خط و کتابت کریں ، ساری جماعتوں میں تحریک کر کے انصار الله کی مجالس قائم کریں اور چالیس سال سے زیادہ عمر کے سب دوستوں کی تنظیم کریں۔حضور کے اس ارشاد کی روشنی میں مرکزی دفتر کا قیام عمل میں آیا اور منشی عبدالرحیم شرما صاحب کو ہی نہیں روپے ماہوار مشاہرہ پر بطور کلرک مقرر کر دیا گیا اور ایک مدد گار کارکن بارہ روپے ماہوار پر رکھ لیا گیا، ابتداء یہ دفتر جنوری ساء میں محمد دارالانوار قادیان میں گیسٹ ہاؤس کے ایک کمرہ میں قائم ہوا لیکن یہ جگہ شہر سے باہم تھی ر کو جو انجمن پر اور قائدین کو جو صد را تمین کے اہم عہدوں پر فائز تھے وہاں جانے میں دقت محسوس ہوتی تھی اس لیے یش کے وسط میں دفتر شہر میں منتقل کر دیا گیا۔کچھ عرصہ تک انصار اللہ کا کلرک چوہدری فتح محمد صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر کام کرتا رہا پھر نظارت علیا کے دفتر میں اس کے لیے جگہ بنادی گئی اور اسی طرح کام چلتا رہا ، کوئی مستقل جگہ دفتر کے لیے نہ بنائی جاسکی۔۱۳۲۳ رفتہ رفتہ یہ محسوس ہوا کہ قائدین کی ہدایات کو علی جامہ پہنانے اور کام کو عدگی سے چلانے کے لیے مزید عمل کی ا الفضل حکیم امان کر تاریخ ۱۳۲۴ پیش ۱۹۴۵ء