تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 324
۳۲۲ حرف آخر گذشتہ ابواب میں یہ ذکر آچکا ہے کہ مجلس انصار اللہ کی بنیاد حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے رکھی تھا وہ بڑی توجہ سے اسے پروان چڑھایا تھا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی انصاراللہ کے آخر میں چند ایسی نصائح درج کر دی جائیں ہو حضور نے انصار اللہ کو مخاطب کر کے فرمائیں یہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور ہمیں دعوت عمل دے رہی ہیں۔اس کتاب کو امام آخر از زمان حضرت مسح موعود علیہ اسلام کے چند اشعار پر ختم کیا جارہا ہے جن میں حضور نے اسلام کی موجودہ کمز در حالت کے پس منظر میں انصار دین کی قدرت کا اظہار کیا ہے اور فرمند دل رکھنے والوں کو ابھارا ہے کہ وہ اپنی جان ومال سے دین حق کی اعانت کے لیے کوشان ہوں اور رب العرش سے صد آفرین کی خلعت حاصل کر لیں۔یہی انصار اللہ کے قیام کا مقصد ہے۔" میں پہلے تو انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ نہیں جو صحابی ا۔میں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں۔اس لیے جماعت میں نمازوں ، دعاؤں اور تعلیق باشد کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تجد ، ذکر الٹی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہیئے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں : الفضل ۱۵؍ دسمبر شاه ) یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالٰی کے مددگار۔گویا تمہیں اللہ تعالٰی کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالٰی از لی اور ابدی ہے اس لیے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔تم اپنے انصارہ ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لیے قائم رکھتے پہلے جاؤ اور کوشش کر کہ یہ کام نسلاً بعد نسیں