تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 311 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 311

پیش نظر جب انصار اللہ کی تنظیم حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر ک ملٹری قائم کی گئی تو اس وقت کے صدر (حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اور قائدین نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے تعاون سے کچھ اصول اور قواعد دستور کے رنگ میں مرتب کئے اور حضرت امیر المومنین سے ان کی منظوری حاصل کی سان قواعد و ضوابط کا ذکر ابتدائی دور کے حالات میں آچکا ہے تقسیم ملک کے بعد کچھ عرصہ تک انہیں قواعد و ضوابط ۱۳۳۴ همش کی روشنی میں کام ہوتا رہا۔پیش کی شوری انصار اللہ میں ان پر نظر ثانی کے لئے ایک بورڈ مقرر کیا گیا۔جس کے ممبر نائب صدر ( حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب) کے علاوہ مولوی عبد الرحیم صاحب درد ، مولوی ابوالعطاء صاحب ، شیخ محبوب عالم من الد صاحب ، مرزا عبد الحق صاحب اور ایک ایک نمائندہ لائل پور ، سیالکوٹ ، گجرات اور لاہور تھے۔یہ بورڈ دوران سال اپنا کام مکمل نہ کر سکا۔اس لئے ۱۳۳۵ بنگلہ کی شوری میں یہ فیصلہ ہوا کہ بورڈ ا پنا کام جاری رکھے۔لیکن بوجوہ ۶۱۹۵۵ +1909 یہ کام مناطر خواہ رنگ میں سرانجام نہ دیا جا سکا۔اس لئے ان کی شوری میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر مجلس ایک کمیٹی بنادیں جو معینہ مدت میں دستورالعمل پر نظر ثانی کرے۔چنانچہ صدر محترم نے تین افراد پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنادی جو وقتا فوقتا اپنے اجلاس کر کے ترامیم تجویز کرتی رہی اور ان تجاویز و ترامیم پر شوری میں خور ہوتا رہا۔یہ سلسلہ دو تین سال چلتا رہا اور بالآخر ۱۳۳۲ پیک میں سب کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا۔شور ہی میں غور نور کے بعد حضرت امیر المومنین کی خدمت میں پیش کیا گیا اور حضور نے اس کی منظوری صادر فرمائی۔یہ دستور العمل، دستور ساہی کے نام سے پہلی مرتبہ ان میں شائع ہوا۔بعدمیں وقتا فوقتا جوترامیم ہوتی رہیں نہیں دی تو را اساسی کے آئندہ ایڈریشنوں میں شامل کیا جاتا رہا۔اس وقت تک دستور را اساسی کے مندرجہ ذیل ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں :- کو ۱۳۳ همیش طبع اول شہادت امپریالی +1909 طبع دوم: وفا جولائی سمر طبع سوم : ہجرت / مئی 1940 1941 باش جب بیرونی ممالک میں مجالس قائم ہونے لگیں تو ان کو بھی دستورالعمل کی ضرورت پیش آئی۔اس نے فیصلہ کیا گیا کہ پہلے سکا نگریزی میں ترجمہ شائع کیا جائے۔ترجمہ کا کام مولوی احمد حسن صاحب شبرا ر پشاور یونیورسٹی اور پروفیسر بی اے خان ایم ایس سی نے کیا۔نظرثانی کے بعد اسے شام میں شائع کر دیا گیا۔دوسرا انگریزی ایڈیشن میں نے ان میں شائع کیا گیا۔