تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 278
کے ساتھ ادا کریں۔انھیں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنا چاہیئے اور اسی طرح مالی ذمہ داریوں سے سبکدوش بجھتے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔نیز حضرت میسج موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کی طرفف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سب کتب اللہ تعالے کی خاص تائید و نصرت کے ماتحت لکھی ہیں اور یہ حقائق و معارف سے اس طرح پر ہیں جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے۔آپ نے قرآن کریم کے دریا کے زور دار بہاؤ کو اس خوبصورتی سے مختلف چینلز (CHANNELS) میں منتقل کیا ہے کہ ہر قوم اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور اپنی روحانی پیاس بجھا کہ اعلیٰ ترقیات حاصل کر سکتی ہے۔مسیح موعود کے متعلق یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ خزانے تقسیم کرے گا لیکن لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں کریں گے۔ان خزانوں سے مراد روحانی خزائن ہیں نہ کہ دنیوی اموال۔ہمیں ان روحانی خزائن سے خود بھی اپنی جھولیاں بھرنی چاہئیں اور دوسروں کو بھی یہ خزانے دینے چاہئیں تا کہ وہ بھی محروم نہ رہیں۔ان سے نہ صرف ہم مالا مال ہوں بلکہ وہ بھی مالا مال ہوں اور ان کے بھی دامن استعداد پر ہو جائیں۔اللہ تعالے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جلد ایسے حالات گردو نا فرمائے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی بعثت کی غرض کو یہ تمام و کمال پورا کرنے والے ہوں اے ۱۳۴۰ بش نصاراللہ خیرپور ڈویژن کےسالانہ اجتماع منعقده با تبلیغ فروری سے کے موقعہ پر حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحبکا پیغام خیر یو پر ڈوشین کے انصار اللہ کے لئے میرا پیغام یہی ہے کہ آپ لوگ اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس میں عرب سے با ہر یا بالفاظ دیگر ہندوستان کے ساحل میں سب سے پہلے اسلام کی روشنی پہنچی اور ے ماہنامہ انصار اللہ جولائی تاء کے ماہنامہ انصار الله بابت امان / مارت ۱۳۴۰ ریش 41941