تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 272 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 272

٢٤١ مقام پر منعقد ہوا۔قریشی عبدالرحمن صاحب ناظم اعلی انصار اللہ کی درخواست پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد متساب صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے اس اجتماع کے موقعہ پر تو پیغام ارسال کیا اس کا متن درج ذیل ہے:۔برادران کرام! نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود السلام عليكم ورحمتہ اللہ و برکاته یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مجالس انصاراللہ ضل خیر لوپ اپنا درسراسالات اتمام یکم درد ترین سایہ کوٹھ فلام محمد کے مقام پر منتقد کر رہی ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالے اس اجتماع کو گوناگوں برکات کا حامل بنائے اور یہ جماعت کی ترقی کا موجب ہوتے۔اس اجتماع کے موقعہ پر مسکرم قریشی عبدالرحمن صاحب ناظم اعلیٰ انصار اللہ نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ انصار اللہ کے نام ایک پیغامہ بھجواؤں۔چنانچہ ان کی خواہش کے احترام میں چند سطور درج ذیل ہیں۔اس موقعہ پر میں اپنے انصار بھائیوں سے یہ بھی عرض کروں گا کہ کسی نصیحت کوشن لینے سے ہی کام نہیں بنتا بلکہ اصل چیز عمل ہے لہذا اس طرف خاص توجہ دی جائے۔اللہ تعالے نے انسان کی پیدائش کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا ماخلقت الجن والانس الا لیعبدون۔یعنی جن و انس کی آفرینش کا مقصد وحده لا شریک کی پرستش ہے۔خدا تعالئے ہر قسم کی طاقت کا مالک ہے۔وہ قادر مطلق ہے۔اگر چاہتا تو ہر انسان کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا جو ہمیشہ انسان کو اسی کی یاد میں گھر کئے رکھتا جیسا کہ اس نے فرشتوں کے ساتھ کیا مگر اس نے انسان کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے انسان کے اندر مختلف قسم کی طاقتیں پیدا کر کے اسے اختیار دے دیا کہ خواہ وہ برائی کی طرف ا جائے اور وہ ان اصلاح کرکے نیکی کا راستہ اختیار کرے گویا وہ انسان کو دونوں قسم کی قوتین وطا کر کے پھریہ کہا چاہتا ہے کہ کون ہے جو مقصد حیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی کی طرف مائل ہوتا ہے۔اللہ تعالے اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ صرف اصول مقرر کر کے اور ہمارے لئے راہ مگر ملی ہی متعین کر کے خاموش نہیں ہو رہا بلکہ اس نے انبیاء کی رسالت سے ہر زمانہ میں اصول ہدایت کی تجدید