تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 247
ابتدائی فتوحات میں شامل تھا مگر اب وہاں جبری طور پر عیسائیت کو پھیلا دیا گیا ہے۔اللہ تعالٰی اس علاقہ میں اسلام کی نصرت کے سامان پیدا کرے تا بنی امیہ کے زمانہ میں اسلام وہاں داخل ہوا تھا اور پھر وہاں سے نکال دیا گیا تھا خدا تعالیٰ اسے احمدیت کے ذریعہ پھر وہاں دوبارہ قائم کر دے (اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی ) دعا کے بعد فرمایا :- ا دعائیں تو میں نے آپ لوگوں کے لیے بھی کردی ہیں اور سلسلہ کے لیے بھی کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے اور آپ لوگ خیر و عافیت سے گھر جائیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے دلیرانہ کوشش کریں تاکہ خدا تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت دے اور سلسلہ کی مالی حالت اور تحریک جدید جو غیر ملکوں میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لیے ہے اس کی مالی حالتوں میں زیادہ سے زیادہ ترقی ہو، پھر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کو پہلے سے زیادہ قربانی کرنے کی توفیق دے اور کھلے سال ہمارے ملک میں فضل ربیع کی جو تبا ہی آئی تھی آئندہ اس سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔پھر نئی فصلوں میں بھی برکت دے تاکہ زمینداروں کے پچھلے نقصان و دور ہو جائیں اور آئندہ کے لیے وہ اور قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ، ہماری جماعت میں زمیندار ہی زیادہ ہیں اور ان کی مالی کمزوری کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان پر اپنے فصلوں کی بارش نازل کرے اور اپنی تازہ ابشار توں لینی الماموں اور کشوف اور خوابوں کے ذریعہ سے ان کے ایمانوں کو تقویت دے تاکہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کے ایمان کو زیادہ مضبوط بنا سکیں، میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں کو سچی خوا نہیں آتی ہیں ان کی اولادیں کہتی ہیں کہ ہمارے دادا کو ایسی خواب آئی تھی پھرا کی اور کہتی ہے کہ ہمارےپردادا کو ایسی خواب کی تیاری میں میں شیت کا ا ا ا ریا اے اگر یہائے دوست اس طرف توجہ کریں اور پھر اپنی اولاد کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہیں ، تو ان ک کم سے کم تین چار پشتیں محفوظ ہو جاتی ہیں اور پھر اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو چھو پشتیں محفوظ ہو گئیں، پھر ایک اور اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو تو پشت میں محفوظ ہو گئیں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ان کی امت ۱۳۰۰ سال تک محفوظ رہی اور تیرہ سو سال میں بڑے بھاری تغیر آجاتے ہیں۔ہم تو چاہتے ہیں کہ قیامت تک ہی ہماری نسل محفوظ ہو جائے کیونکہ احمدیت خدا تعالیٰ کا آخری جلال ہے۔اس آخری جلال کو کم سے کم قیامت تک قائم رہنا چاہیئے تاکہ پیشہ لوگوں میں روحانیت اور ہدایت کی طرف توجہ کے سامان پیدا ہوتے رہیں اگر یہ سامان مٹ گئے تو اور کوئی ذریعہ ہدایت کا دنیا میں نہیں رہیگا فرض میں نے یہ دعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر بشارتیں نازل کرتا رہے تا اس پہیئے سے نئے فضل ہوتے۔میں اور ان کا ایمان روز بروز تازہ ہوتا چلا جائے ہے۔له الفضل ۶ نومبر شواء