تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 145 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 145

۱۴۵ آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اسکی بیسان سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہینگے تا کہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت ایک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے ، اے خدا تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما آمین - اللهم امین - افهم آمین اس عہد کے بارے میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہ عہد جو اس وقت آپ لوگوں نے کیا ہے متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نو جوانوں سے لیتے چلے جائیں اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو پھر اسے کہیں کردہ اس عہد کو اپنے سامنے رکھے اور ہمیشہ اسے دہراتی میلی بجائے اور پھر وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کے سپرد کردے اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو اس کی تاکید کرتی چلی جائے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو ملے ہوا کریں ان میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دہرایا کریں یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے اور اسلام آنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائے۔لے ۱۳۳۵ 51904 انصاراللہ کا جھنڈا علم انعامی اوراسا خوشنوی اش کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر شورٹی انصاراللہ میں یہ فیصد ہوا کر -۱ انصار کا اپنا جھنڈا ہو اور انعامی و اعزازی جھنڈا بھی دیا جایا کرے۔- جو مقامی زعیم العلی باز میم ضلع اپنی تنظیم اور انصار اللہ کے فرائض کی ادائیگی میں مرکز کے قیصر کے مطابق سب سے اول رہیں انہیں سالانہ اجتماع انصار اللہ کے موقع پر انصار اللہ کا اعزازی جھنڈا دیئے جانے کی مفاشر حضرت امیر المومنین کی خدمت میں مجلس انصار الله مرکزہ یہ کرے۔اس فیصلہ کو ملی جامہ پہنانے اور تفاصیل طے کرنے کے لیے ایک سب کیٹی مقر کی گئی جس کے مبر مندرجہ ذیل اراکین تجویز ہوئے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ، مولانا جلال الدین صاحب انصاراللہ کا جھنڈا میر شمس محمد شفیع صاحب گوجرانوالہ چوہدری شریف احمد صاحب با جوه لائلپور، مرزا داود احمد صاحب، مولانا ابوالعالی صاحب جو ٹھنڈا تجویز ہوا اس کا ڈیزائن اور سائز درج ذیل نقشہ سے ظاہر ہے۔الفضل ۲۸ را خاء / اکتوبر ۳۳ میش ۱۲۸