تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 43 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 43

م اجتماعی جلسہ بھی منعقد کیا جاتا نہیں میں تمام انصار شریک ہو کر استفادہ کرتے ، وقتاً فوقتاً مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے اجلاس بھی منعقد ہوتے رہے مین میں مجلس انصار اللہ کے لا تحر عمل اور دستو را سامی کے بارے میں تجاویز پیش ہوتی رہیں، مرکزی مجلس کے بعض اجلاس کی رو تیدا د حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں بغرض اطلاع پیش کی جاتی رہیں اور حضور کی طرف سے ان کے بارے میں ہدایات بھی ملتی رہیں۔حضرت امیرالمومنین کے ارشادات کی روشنی میں انصار اللہ کے لیے جو انصار اللہ کا بتائی پروگرام پروگرام مرتب کیا گیا اس میں مندرجہ ذیل امور شامل تھے۔ا- * تمام حلقہ جات میں نماز کی پابندی کی نگرانی کی بجائے بست افراد کو ترغیب کے ذریعہ مشیت کیا جائے اور جو پابند نہ ہوں، ان کی رپورٹ مرکزی دفتر میں کی جائے۔خدام الاحمدیہ کے تعاون سے ناخواندہ افراد کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔- تبلیغ کے لیے انصار اللہ میں سے والنٹر لیے جائیں اور انہیں مختلف دبیات میں تبلیغ کے لیے بھجوایا جائے۔ہر سال ایک ہفتہ منایا جائے جس میں مخالفین سلسلہ کے اعتراضات اور ان کے جوابات سے اراکین کو باغیر کیا جائے اور یہ کام خدام الاحمدیہ کے تعاون سے کیا جائے ، اس بارے میں حضرت امیر المومنین نے یہ ہدایت فرمائی کہ جوابات اسباق کے رنگ میں سکھائے جائیں اور امتحان کے ذریعہ اس امر کی تسلی کرلی جائے کر مضامین پوری طرح ذہن نشین ہو گئے ہیں چنانچہ حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر نشہ کے دوران فرمایا :- انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض " میں اس بارہ میں جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لیے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ہر سال ایک ہفتہ ایسا منا یا کریں میں میں وہ جماعت کے افراد کے سامنے مختلف تقاریر کے ذریعہ نہ صرف اپنی جماعت کے عقائد بیان کیا کریں بلکہ یہ بھی بیان کیا کریں کہ دوسروں کے کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا جوابات میں ہر مسجد میں اس 194۔لة الفضل ۱۷ اگست ۹۶