تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 325
الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۹۶ ) " چلتا چلا جائے " آپ کا نام انصار اللہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ جہانتک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔دینی لحاظ سے آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور دین کا چرچا زیادہ سے زیادہ کریں تا کہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الٹی کی تلقین کرتے رہنا چاہیئے " الفضل سے نومبر تاء) کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام 4 ہر طرف کفر ست ہوشاں پہچو افواج یزید دین حقی بیمار و بنگی کچھ زین العابدین عالمان را روز و شب با هم فساد از جوش نفس را بدان فاضل سراسر از مرد یہ تھامے دین ہر کسے از بهر نفس درون خود طرفے گرفت طرف دیں خالی شد و بر دشمنی جنت از کمیس اسے برادر دل منہ در دولت دنیائے دوں زہر خونریز ست در هر قطره این انگلیس تا توانی جهد کن از بهر دین با جان و مال تازه رب العرش یا بی خلعت صد آفریں یا اللی باز کے آید ز تو وقت مدد باز کے بینیم آن فرخنده ایام دستین این دو فکر دین احمد مغز جان ما گذاشت کثرت اعدائے ملت قلت انصار دین