تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 291
۲۸۹ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ محسوس کیا کہ جلسہ سالانہ کے موقعہ بچہ بیرون پاکستان سے بعض افراد انفرادی حیثیت میں آتے ہیں اور شریک جلسہ ہوتے ہیں۔اس کی نسبت یہ بہت بہتر ہے کہ دوسرے ممالک سے افراد جماعت وفود کی شکل میں مرکز سلسلہ میں آیا کو ہیں۔اس طرح زیادہ افراد کو شامل ہونے کی تحریک ہوگی اور جماعتوں کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔اس سلسلہ میں باہر سے آنے والوں کے لئے مناسب رہائش کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔حضرت امیر المومنین نے ہدایت فرمائی کہ صدر انجمن احمدیہ ، تحریک جدید مجلس انصار اللہ اور مجلس خدام الامر یہ اپنے اپنے طور پر باہر سے آنے والوں کیلئے گیسٹ ہاؤس تعمیر کریں۔جس وقت حضور نے یہ تحریک فرمائی اس وقت بعض لوگوں کا خیال تھا کہ دوسری تنظیموں کے لئے تو اپنا گیسٹ ہاؤس تعمیر کرتے ہیں اتنی دقت نہ ہو گی۔کیونکہ ان کی مالی پوزیشن مضبوہ ط ہے لیکن مجلس انصار اللہ شاید اس بوجھ کو نہ اُٹھا سکے۔کیونکہ ان کے مالی وسائل نسبتاً محدودہ ہیں۔جب لوگوں کے اس مشیہ کا علم صدر مجلس کو ہٹا تو انہوں نے اپنے قادر و توانا خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے دل میں یہ عزم کیا کہ انصار اللہ کا گیسٹ ہاؤس سب سے پہلے تعمیر ہو گا۔الحمد للہ کہ اللہ تعالٰی نے صدر محرام کی اس خواہش اور اس عزم کو پورا کرنے کے سامان اپنے خاص فضل و کرم سے مہیا فرما دیئے اور تین انصار کو انہوں نے دست تعاون بڑھانے کے لئے پکارا ، اُنہوں نے بشاشت قلب اور فراخدل کے ساتھ اس کار خیر مں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔صدر مجلس نے اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے پوری قسم کے جمع ہونے کا انتظا کئے بغیر تعمیر کا کام شروع کر وا دیا۔پھر روپیہ آتا چلا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت وا او عمارت ہو تمام جدید سہولتوں سے آراستہ ہے معرض وجود میں آگئی اور اس طرح مجلس انصار اللہ کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کی سب سے پہلے میں نزیکی سعادت حاصل ہو گئی۔فالحمد لله على ذالك اس گیسٹ ہاؤس کا سنگ بنیاد حضرت امیر المؤمنین نے خود رکھنا تھا لیکن بوجوہ اس میں التوا ہوتا رہا۔اس لئے حضور کی اجازت سے اس کا سنگ بنیاد حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ نے مورخہ ۲- اضاء/ اکتوبر ۱۳۵۳ م کو اس اینٹ کے ساتھ رکھا جس پر حضرت ۶۱۹۷۴ امیرالمؤمنین نے دعا فرمائی تھی۔اس کے بعد مندرجہ ذیل افراد نے جو اس وقت موجود تھے باری باری