تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 140
۱۴۰ مانہ میں کیا چاہتا ہے یعنی وہ کن خرابیوں کو مٹانا چاہتا ہے اور کن خوبیوں کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر اس مطالعہ کے بعد اپنی تمام قوتوں اور تمام ذرائع کے ساتھ خدا کی خدمت میں لگ جائیں، اس کے بغیر نہ تو مجلس انصار اللہ حقیقی معنوں میں انصار اللہ کھلا سکتی ہے اور نہ یہ رسالہ صحیح طور پر خدا تعالیٰ کا ناصر و مدد گار سمجھا جا سکتا ہے۔رسالہ انصاراللہ کے مضامین اعلی درجہ کے علی اور حقیقی ہونے چاہیں اور اس رسال کو اپنے بلند معیار سے ثابت کر دینا چاہیئے کہ حقیقہ مذہب و سائنس میں کوئی مسکراؤ اور تضاد نہیں کیونکہ وہ دونوں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔سچا مذہب خدا کا قول ہے ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کے ذریعہ دنیا پر نازل ہوا اور پھر آپ کے خادم اور فعل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس نے اس زمانہ میں نئی روشنی پائی اور سچی سائنس خدا کافعل ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی نیچر کے پردوں میں مستور رہ کر زمانہ کی ضرورت کے مطابق ظاہر ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء اور آپ سے تربیت یافتہ اصحاب کے لٹریچر نے اس نام نہاد تضاد کو بیشتر صورتوں میں صاف کر دیا ہے اور اگر کوئی ظاہل تضاد باتی ہے تو وہ بھی انشاء اللہ جلد صاف ہو جائے گا۔رسالہ انصار الله کو اس کام میں خاص حصہ لینا چاہیئے۔" ر مرقوم ۲۰ اکتوبر ۱۹۶ حال لاہور ) اس رسالہ کو بڑی محنت، توجہ اور قابلیت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔اس کا سب سے زیادہ جاذب نظر حصہ وہ ہوتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیدہ چیدہ ملفوظات اور روح پر در تحریرات نظم و نثر کے منتخب حصے درج کئے جاتے ہیں یوں تو حضور کی ساری تحریریں اور ملفوظات ہی وحی خفی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور دائمی انوار و برکات کی حامل ہیں اور ان میں اس قدر جذب کوشش ہے کہ کوئی قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، لیکن ان میں سے بھی بعض حصے ایسے ہیں جو اپنے حسن و خوبی اور تاثیرات میں بے مثال ہیں۔اس ماہنامہ میں جب ان نوادرات پر نگاہ پڑتی ہے تو نظرو میں اٹک کر رہ جاتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ بار بار ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان کی ظاہری و باطنی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جائے اس کے علاوہ دوسرے مضامین بھی علمی اور تربیتی لحاظ سے نہایت عمدہ اور مفید ہوتے ہیں ، پہلے سال کے شماروں پر نظر ڈالی جائے تو