تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 64 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 64

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۶۴ فیصلہ عاملہ: رسالہ ہدایات میں ہر شعبہ کی ہدایات تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔اس لئے اس تجویز کو شوری میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔(ii) مجلس انصاراللہ پاکستان میں شعبہ امور عالمہ قائم ہونا چاہئے تا کہ مجالس اپنے ارد گرد ماحول کے بارہ میں اور معاندین کے بارہ میں عبرت ناک واقعات سے متعلق رپورٹ مرکز بھجوانے کی طرف متوجہ ہوں۔فیصلہ عاملہ: ایسی رپورٹ بھیجوانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔محترم صدر صاحب کی خدمت میں ایسی رپورٹ بھجوائی جاسکتی ہے۔شوری میں اس تجویز کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد پروگرام کمیٹی سالانہ اجتماع کا مجوزہ پروگرام سالانہ اجتماع پیش کیا گیا جس کی مجلس عاملہ نے کمیٹی کی سفارش سے اتفاق کرتے ہوئے منظوری دی۔اس کے بعد مکرم حافظ عبدالمنان صاحب کی درخواست بابت الاؤنس منیجر و پبلشر ماہنامہ انصار اللہ کا معاملہ پیش ہوا۔مجلس عاملہ نے انتظامیہ کمیٹی کی سفارش سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ان سے معذرت کر دی جائے کیونکہ ایک تو وہ منیجر نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ اس سے قبل مکرم چوہدری محمدابراہیم صاحب کو بھی کوئی الاؤنس نہیں دیا جا تا تھا۔محمد ود شوری کے انعقاد کے لئے مورخہ ۴ رنومبر بروز اتوار کی تاریخ تجویز کی گئی۔ازاں بعد قاعدہ نمبر ۲۲ ج دستور اساسی میں تبدیلی زیر غور آئی چنانچہ اس ضمن میں مکرم ایڈیشنل ناظر صاحب بیت المال آمد صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی چٹھی پیش ہوئی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ حضور ایدہ اللہ کی منظوری سے جماعتی انتخابات میں تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کی بقایا داری ختم کر دی گئی ہے۔اب جماعتی انتخابات میں صرف صدر انجمن احمدیہ کے چندوں میں لازمی چندہ جات کا بقایا دار ہی بقایا دار شمار ہوتا ہے اور لازمی چندہ جات کے بقایا دار سے یہ مراد ہے کہ جو چندہ عام اور حصہ آمد کا چھ ماہ سے زائد اور چندہ جلسہ سالانہ کا ایک سال سے زائد کا بقایا دار ہو۔مجلس انصاراللہ کے قواعد میں اس کے مطابق تبدیلی کی ضرورت ہو تو کر لی جائے۔مجلس عاملہ نے اس بارہ میں فیصلہ کیا کہ قاعدہ نمبر ۲۲ ج میں تبدیلی کیلئے حضور انور کی خدمت میں منظوری کے لئے لکھا جائے۔ماہانہ رپورٹس کے بارہ میں محترم صدر صاحب نے ہدایت فرمائی کہ وہ انہیں ڈاک میں بھجوادی جائیں۔یہ اجلاس دعا کے بعد قریباً ساڑھے چھ بجے اختتام پذیر ہوا۔