تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 50
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۵۰ کے وسط میں اور تیسرا انصار اللہ کے مرکزی اجتماع کے موقع پر منعقد ہوتا رہا۔ان اجلاسات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تنظیم کو مضبوط کرنے میں مدد ملی۔قائدین مرکز یہ اور ناظمین کے باہمی افہام و تفہیم سے کام کرنے کے جذبہ کونئی جلا ملی۔ناظمین اور زعماء اعلی اجلاس میں شامل ہو کر محترم صدر صاحب اور قائدین کی ہدایات سے ایک نیا جذبہ لے کر ربوہ سے واپس جاتے اور اپنی مجالس میں بیداری کی نئی روح پیدا کرنے کا موجب بنتے۔امسال بھی محترم صدر صاحب کی زیر نگرانی قیادت عمومی اس بات کا اہتمام کرتی رہی کہ تمام ناظمین اور زعماء اعلیٰ مرکز میں منعقد ہونے والے اجلا اسات میں باقاعدگی سے شامل ہوں۔جو دوست اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے اجلاسات میں باقاعدگی سے شامل نہ ہو سکتے ہوں، ان کا نمائندہ اجلاس میں بلایا جاتا۔اگر پھر بھی کوئی ضلع نمائندگی سے غیر حاضر رہے تو اسے اجلاس کی کارروائی لکھ کر بھجوا دی جاتی۔ان اجلاسات کے پروگراموں میں یہ امر بھی شامل ہوتا کہ ناظمین اور زعماء اعلیٰ اپنی مشکلات پیش کر کے مجلس مرکز یہ سے اس کا حل معلوم کر سکیں۔اس طرح مرکز کو فیلڈ میں کام کرنے والے کی مشکلات کا علم ہوتا اور بیرونی عہد یداران مرکزی عہدیداران سے راہنمائی حاصل کرتے۔اس کا خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت گہرا اثر ہوا اور تنظیم میں تر و تازگی ، باہمتی اور عزم پیدا ہوا اور یہ آگے سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ضمن میں ایک میٹنگ ۳ ستمبر ۲۰۰۰ء کو منعقد کی گئی افسوس کہ دیگر میٹنگز کا ریکارڈ نہیں مل سکا۔رپورٹ کارگزاری پر حضور انور کے خوشکن ارشادات ا صدر محترم کی طرف سے اعداد وشمار پر مشتمل رپورٹ ہر ماہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت بابرکت میں بھجوائی جاتی رہی۔مجلس کی خوش قسمتی ہے کہ ان پر حضور انور کی طرف سے ارشادات موصول ہوتے رہے۔تبر کا ایسے چند خطوط زینت قرطاس بنائے جارہے ہیں۔(۱) مجلس انصار اللہ پاکستان کی کارگذاری رپورٹ ماہ اکتوبر موصول ہوئی۔ماشاء اللہ۔بہت اچھا کام کیا ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت دے اور احسن رنگ میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ہر میدان