تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 257 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 257

۲۳۷ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم تیز اور نتیجہ خیز بنانے کی تاکید فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ ماہوار رپورٹس کے کوائف تو چالیس سے پینتالیس فیصد نماز کی حاضری دکھاتے ہیں لیکن آزادانہ لئے گئے جائزہ کے مطابق فجر اور عشاء میں حاضری پندرہ سے اٹھارہ فیصد نکلتی ہے۔اس طرح اوسط شرح حاضری بائیس تا چوبیس فیصد بنتی ہے اور یہی حقیقت کے قریب تر معلوم ہوتی ہے۔صدر محترم نے فرمایا کہ نمازوں میں حاضری بڑھانے کے لئے بڑی حکمت سے سمجھانے اور مسجدوں میں لانے کا مسلسل عمل جاری رکھنا ہوگا۔نرمی اور پیار محبت سے کام لینا ہوگا۔کسی ایک کو بھی ناراض نہیں کرنا۔زیادہ سے زیادہ نمازیوں سے مسجدوں کی رونق بڑھائیں۔جمعہ میں حاضری کو بھی بہتر بنائیں۔نماز جمعہ کے دوران تمام دکانیں لازماً بند نظر آنی چاہئیں۔اجلاس ۲۴ / جولائی ۲۰۰۲ء) محترم صدر صاحب نے مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ نمازوں میں کمزور دوستوں کے لئے ہر محلہ میں دو دو تین تین آدمیوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائیں جس میں ایسے آدمی ہوں جو تحمل اور پیار و محبت سے ان دوستوں کو توجہ دلاتے رہیں اور نماز کے بارہ میں ارشادات بھی ان تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ہر ماہ اس کے لئے ایک ٹارگٹ ہونا چاہئے۔“ اجلاس ۲۸ را گست ۲۰۰۲ء) محترم صدر صاحب نے مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ نماز جمعہ کے دوران دکانیں بند کروانے کے لئے کوشش جاری رکھی جائے اور دکانداروں میں سے کمیٹی بنا کر ان کے ذریعہ بھی کوشش کی جائے۔“ اجلاس ۲۹ ستمبر ۲۰۰۲ء) مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ چند محلے چن کر ان کی نمازوں کی حاضری کی رپورٹ بھجوائیں اور ہر محلہ میں کچھ دوست مقرر کریں جو نمازوں میں ست انصار کو پیار اور محبت سے سمجھا ئیں۔یہ کام مستقل طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔“ ( اجلاس ۳۰ دسمبر ۲۰۰۲ء ) مکرم قائمقام زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کو ہدایت فرمائی کہ جیسا کہ پہلے توجہ دلائی گئی تھی ربوہ کے آٹھ دس محلے چن کر ان میں نمازوں کی حاضری کا جائزہ لیا جائے اور وفود مقرر کئے جائیں اور اس کی رپورٹ بھجوائی جائے۔“ اجلاس ۲۷ /جنوری ۲۰۰۳ء)