تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 236
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم مرکز یہ میں ۱۹۷۷ء اور ۱۹۷۸ء میں قائد تجنید جبکہ ۱۹۷۹ء اور ۱۹۸۰ء میں قائد تربیت رہے۔محترم شاہ صاحب ۲ دسمبر ۱۹۱۱ء میں گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام مولانا سید حیات شاہ صاحب تھا۔۱۹۲۷ ء میں آپ نے مڈل پاس کیا اور مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور رفقاء حضرت مسیح موعود کی صحبتوں سے فیض اٹھایا۔۱۹۴۲ء میں آپ نے باقاعدہ واقف زندگی مربی کے طور پر خدمت کا آغاز کیا۔آپ بطور مربی سلسلہ کراچی ، فیصل آباد، سرگودہا اور دیگر متعدد مقامات پر متعین رہے۔بعد ازاں آپ کو قریباً ہمیں سال نائب ناظر اصلاح وارشاد مقامی اور نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ کے طور پر خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔آپ کو دو بار جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کی سعادت ملی۔علمی خدمات: آپ خدا کے فضل سے جماعتی علم کلام اور موازنہ مذاہب کا گہرا علم رکھتے تھے۔زمانہ طالب علمی سے مناظروں کے ذریعہ خدمات انجام دینی شروع کیں۔عیسائی مذہب کا وسیع مطالعہ تھا۔آپ کے پاس بائبل کے متعدد قدیم نسخے موجود تھے۔جماعتی اخبارات و رسائل میں آپ کے پانچ صد سے زائد مضامین شائع ہوئے۔آپ کی تصنیف کردہ تین درجن سے زائد کتب ، رسائل اور پمفلٹس طبع ہوئے جن میں دعوت حق ، عقائد جماعت احمدیہ ، رسالہ اربعین اور آپ کی سوانح عمری تحدیث نعمت باری تعالیٰ بھی شامل ہیں۔قرآن کریم کے ساتھ آپ کو خصوصی شغف تھا۔روزانہ ایک پارہ تلاوت کرتے تھے۔دوران رمضان المبارک پندرہ سال تک ربوہ میں درس قرآن دیا جس کے پہلے دس سال میں قرآن مجید کا ایک دور ختم کیا۔مختلف اجتماعات اور جلسوں میں آپ کو تقاریر کا موقع ملتارہا۔اپنی آخری بیماری کے دور ان میں بھی درس و تدریس اور تحریر کا سلسلہ جاری رکھا۔نماز جنازه و تدفین : مورخها ا/ اگست ۲۰۰۳ء کو نماز عصر بیت المبارک ربوہ میں محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔بعد ازاں بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں تدفین عمل میں آئی۔۱۵ یوم پاکستان پر تقریب ۱۴ اگست کو یوم آزادی کی مناسبت سے مجلس انصار اللہ مقامی ربوہ نے انصار اللہ پاکستان کے ہال میں ایک تقریب فورم کی شکل میں منعقد کی۔جس میں مکرم راجہ نصر اللہ صاحب ،کرم مرزا خلیل احد قمر صاحب ، مکرم نور احمد صاحب عابد، مکرم عبدالسمیع خان صاحب اور مکرم مولانامحمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری نے شرکت کی۔