تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 1
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم بسم الله الرحمن الرحيم يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ انْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ فَا مَنَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَهِرِينَ اله انصار اللہ کا نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے اور احمدیت کی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے۔قرآنی تاریخ میں ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک حصہ کو انصار کہا ہے۔جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں جماعتوں کا نام ” انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے ۱۹۱۱ء میں یہ جماعت بنائی گئی۔پھر مثیل مسیح موعود نے اس نام سے ایک تنظیم قائم فرمائی۔جی ہاں وہی عظیم الشان تنظیم جس کے قیام پر اب پچھتر سال پورے ہو چکے ہیں۔الحمد لله ۲۶ جولائی ۱۹۴۰ ء وہ دن ہے جب مسجد اقصیٰ قادیان کے منبر سے حضرت مصلح موعود کی یہ پر شوکت آواز گونجی۔چالیس سال سے اوپر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں، اس میں شریک ہوں۔“ اللہ تعالی نے اپنے خاص وعدوں اور قدیم نوشتوں کے مطابق حضرت خلیفہ المسح الثانی مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کو ایک عظیم الشان دماغ عطا فرمایا تھا، جو علم وعرفان کا گنجینہ اور فہم و فراست کا خزینہ تھا۔یہ آسمانی دماغ دین و دنیا، ظاہر و باطن ، انفسی اور آفاقی غرضیکہ ہر نوع کے مسائل و معاملات میں ایک واضح نمایاں اور سلجھے ہوئے طریق کار کا حامل تھا۔یہ حقیقت اس قدر واضح تھی کہ جماعت احمدیہ کے ایک مشہور معاند و مخالف کو اعتراف کرنا پڑا کہ وو جو عظیم الشان دماغ اس (یعنی جماعت احمد یہ۔ناقل ) کی پشت پر ہے وہ بڑی سے بڑی سلطنت کو پل بھر میں درہم برہم کرنے کے لئے کافی تھا۔