تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 166
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۴۶ جماعت احمدیہ امریکہ کے امیر کے طور پر تاریخی خدمات کی توفیق پارہے تھے۔آپ کے دور امارت میں جماعت احمدیہ امریکہ نے مختلف میدانوں میں غیر معمولی ترقی کی اور اہم سنگ میل طے کئے۔ابتدائی حالات: حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۱۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔حضرت سیدہ اماں جان نوراللہ مرقدہا نے اپنے صاحبزادگان کے بڑے بیٹوں کو گود لے لیا تھا۔اس طرح آپ حضرت اماں جان کی تربیت میں پروان چڑھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے اور پھر ایل ایل بی کرنے کے بعد آپ نے آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا۔اعلی تعلیم کے حصول کے لئے آپ ۱۹۳۳ء میں انگلستان روانہ ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود کے پہلے پوتے تھے جو اعلی تعلیم کیلئے بیرون ملک تشریف لے گئے۔آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اکنامکس کی اعلی تعلیم حاصل کی۔اس دوران آپ کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث کی صحبت حاصل رہی جن کے ساتھ آپ کا بچپن اکٹھا گزرا اور گہری دوستی بھی تھی۔شادی: حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ کے داماد ہونے کا شرف حاصل ہے۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے اپنی بیٹی صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ کا ( جو حضرت سیدہ امتہ ائی صاحبہ بنت حضرت خلیفہ امسیح الاول کے بطن سے تھیں ) نکاح ۲۶ / دسمبر ۱۹۳۸ء کو بیت النور قادیان میں آپ کے ساتھ پڑھا۔ملکی و بین الاقوامی خدمات: آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے انڈین سول سروس میں تقسیم ملک سے قبل اپنی خدمات کا آغاز کیا۔آپ بطور افسر مال سرگودھا اور ملتان رہے۔آپ کی پہلی اہم تقرری ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے طور پر ہوئی۔اس عہدہ پر میانوالی میں بھی متعین رہے۔مغربی پاکستان میں آپ سیکرٹری فنانس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری رہے۔صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے آپ کو ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن مقرر کیا۔صدر ایوب خود چیئر مین تھے۔اس عہدے پر آپ کو گراں قدر ملی خدمات کی توفیق ملی۔پاکستان کا پنج سالہ ترقیاتی منصو بہ تیار کیا گیا۔اس منصوبہ کے تحت تربیلا ڈیم ، منگلا ڈیم اور ان سے نکلنے والی نہروں کے عظیم منصوبے شروع ہوئے۔