تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 82 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 82

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۸۲ نو مبائع احمدیوں کے لئے جماعت لندن کی شائع کردہ کتاب ورڈز آف وزڈم اینڈ پیوری فیکیشن Words of) (Wisdom and Purification کا سواحیلی ترجمہ کیا، اس کے علاوہ بعض چوٹی کے معاندین کے خیالات کا رد کر نے کیلئے اہم مضامین لکھے۔نماز جنازہ و تدفین: آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اس لئے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین کے لئے جنازہ مورخہ ۱۲ رمئی بروز ہفتہ مکرم ظہیر احمد باجوہ صاحب نمائندہ امیر صاحب جماعت احمد یہ امریکہ کی سرکردگی میں واشنگٹن سے بذریعہ کا رشام پانچ بجے نیو یارک پہنچا۔جہاں مکرم داؤد احمد حنیف صاحب مربی سلسلہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔اسی دن نو بجے رات جنازہ نیو یارک سے چل کر مورخہ ۱۳ مئی کو رات سوادس بجے لاہورایئر پورٹ اور اگلے دن بارہ بجے دوپہر دارالضیافت ربوہ پہنچا۔مورخه ۱۴ رمئی بروز سوموار محترم شیخ صاحب کی نمازہ جنازہ بیت المبارک ربوہ میں بعد نماز عصر حضرت صاحبزادہ مرزا مسر و احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے پڑھائی۔ربوہ اور دیگر شہروں سے کثیر تعداد میں احباب نے شرکت فرمائی۔نماز جنازہ کے بعد احباب نے لائنیں بنا کر آخری دیدار کیا۔ربوہ کے خدام نے ڈاکٹر سلطان احمد مبشر مہتم مجلس خدام الاحمدیہ مقامی کی سرکردگی میں اس موقع پر احسن رنگ میں مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔سڑکوں پر چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔بیت المبارک اور بہشتی مقبرہ میں پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام تھا اسی طرح بہشتی مقبرہ میں بیٹھنے کے لئے کرسیاں موجود تھیں۔تقریباً پون صدی تک خدمات بجالانے والے اس عظیم خادم سلسلہ کی تدفین بہشتی مقبرہ قطعہ خاص میں عمل میں آئی۔قبر تیار ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے ہی دعا کرائی۔مکرم مولا نا عبدالسلام طاہر صاحب کا انتقال معروف مربی سلسلہ اور پروفیسر جامعہ احمدیہ محترم مولانا عبدالسلام طاہر صاحب مؤرخہ ۲۷ مئی ۲۰۰۱ء صبح سوا نو بجے شیخ زید ہسپتال لاہور میں اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔آپ کی عمر ۵۷ سال تھی۔محترم مولانا عبد السلام طاہر صاحب ۳۰ رمئی ۱۹۴۴ء کو پھیر و چی ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام محترم احمد علی صاحب تھا۔آپ کے دادا کا نام محترم مخصو صاحب تھا جو رفیق حضرت مسیح موعود تھے۔آپ کے تایا محترم اکبر علی صاحب بھی رفیق حضرت مسیح موعود تھے۔وقف زندگی اور خدمات سلسلہ: آپ نے ۲۵ مئی ۱۹۶۰ء کو اپنی زندگی وقف کی اور جامعہ احمدیہ میں