تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 53 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 53

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم مرکزی وفود کے دورہ جات ۵۳ مجالس کی کارکردگی میں حسن اور تیزی پیدا کرنے کے لئے مرکزی نمائندگان کے دورے ایک کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اس طرح مجلس کے افعال کا صحیح معنوں میں ادراک ہوتا ہے۔مجلس کی خوبیوں سے آگاہی ہوتی ہے اور قابل تقلید از کار پر مشتمل تذکرے مجلس به مجلس چلتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ مجالس کو در پیش مسائل سے بھی آگاہی ہوتی ہے اور ان کے حل کے لئے باہمی مشوروں سے لائحہ عمل طے پاتا ہے۔ان دورہ جات میں صدر محترم ، مرکزی قائدین ، بزرگانِ سلسلہ، مربیان کرام اور دیگر افراد شامل ہوتے ہیں جو موقع کی مناسبت سے پند و نصائح کے ذریعہ انصار اور عہدیداران کی رہنمائی کرتے ہیں۔ان دورہ جات کی رپورٹس وقتا فوقتا سید نا حضرت خلیفتہ اسیج کی خدمت میں بغرضِ اطلاع ورہنمائی بھجوائی جاتی ہیں۔ستمبر ۲۰۰۰ء کی ایک رپورٹ پر حضور نے تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: آپ کی طرف سے رپورٹ بحوالہ ۰۰-۰۹-۲۴۷۲/۰۷ بابت دوره جات قائدین و مربیان موصول ہوئی۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔ماشاء اللہ رپورٹ اچھی ہے۔لیکن اس میں مزید کوشش کی ضرورت ہے۔سب جماعتوں میں بیداری کا تاثر تو حاضری سے ہوسکتا ہے۔حاضری کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔کمزور احباب کو لا نا زیادہ ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ان دوروں کے نیک نتائج ظاہر فرمائے۔آمین۔میری طرف سے سب قائدین اور مربیان کو محبت بھر اسلام پہنچا ئیں۔“ ( ۲۰۰۰-۹-۲۱) جائزہ برائے علم انعامی واسناد خوشنودی کے بارہ میں ایک اہم فیصلہ مجلس کا سال یکم جنوری سے ۳۱ دسمبر تک ممتد ہوتا ہے۔علیم انعامی اور اسناد خوشنودی جلسہ سالا نہ ربوہ کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح کے دست مبارک سے عطا کی جاتی تھیں۔جلسہ سالانہ دسمبر میں منعقد ہونے کی وجہ سے انتظامی مجبوریوں کے پیش نظر کا ر کر دگی کے جائزہ میں دس ماہ کی رپورٹس کو پیش نظر رکھا جاتا تھا۔اس طرح کمیٹی کو اپنا کام دسمبر تک مکمل کر کے فیصلہ کرنے میں سہولت ہوتی تھی۔اب جبکہ جلسہ سالانہ منعقد نہیں ہو رہا، مجلس مرکزیہ نے محسوس کیا کہ دس ماہ کی بجائے بارہ ماہ کی کارگردگی کا جائزہ لینا مناسب ہوگا۔چنانچہ مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ ء میں طے کیا کہ گزشتہ سال کے دو ماہ یعنی نومبر و دسمبر کو بھی شامل کر لیا جائے اور اس طرح سارے سال کا جائزہ لے کر نتائج مرتب کئے جائیں نیز یہ بھی طے ہوا کہ تحریک جدید اور وقف جدید کے معیار پر نظر ثانی کی جائے اور مجالس کی کاوشوں اور مساعی کے نمبر بھی شامل کئے جائیں۔