تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 33
۳۳ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم مبارک لایا گیا۔نماز کے بعد آپ کی وفات پر حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام کہ خواجہ سرفراز احمد صاحب جماعت کے عظیم سپوت تھے جن کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں پڑھ کر سنایا گیا اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے مکرم خواجہ صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی۔بیت مبارک سے بہشتی مقبرہ تک جنازہ کندھوں پر ہی لے جایا گیا۔بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے وسیع انتظامات کئے گئے تھے۔بہشتی مقبرہ کی اندرونی چار دیواری کے غربی جانب قطعہ خاص میں قبر تیار کی گئی تھی۔اس جگہ کے ارد گر د سرچ لائٹوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ربوہ کے خدام نے بڑی مستعدی کے ساتھ اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔دارالضیافت ، بیت مبارک اور بہشتی مقبرہ میں کار ،موٹر سائیکل اور سائیکل کی الگ الگ پارکنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر مہتمم مقامی کی سربراہی میں ممبران عامله مجلس خدام الاحمدیہ مقامی، نظامت عمومی کی ٹیم کے علاوہ ربوہ کے چار سو سے زائد خدام نے نہایت خوش اسلوبی سے اپنی اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔جنازہ کی گزرگاہ پر تزئین ربوہ کمیٹی نے ٹینکر سے چھڑکاؤ بھی کیا تھا۔ربوہ اور بیرون ربوہ کے احباب کی بڑی تعداد جماعت کے اس عظیم سپوت اور بے لوث خادم کی تدفین کے لئے بہشتی مقبرہ میں موجود تھی۔اس کے علاوہ ناظران صدرانجمن احمد یہ، نائب ناظران، وکلاء تحریک جدید، نائب وکلاء، افسران صیغہ جات اور کئی اضلاع کے امراء بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریباً رات نو بجے تدفین مکمل ہوئی۔تدفین کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے دعا کرائی۔حالات زندگی مکرم خواجہ سرفراز احمد صاحب ایڈووکیٹ مئی ۱۹۲۹ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے ہی حاصل کی۔اسلامیہ سکول سیالکوٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔قادیان سے انٹر کیا۔بعد ازاں مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے اور لاہور کے لاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے ۱۹۵۳ء میں قانون کی پریکٹس سیالکوٹ میں شروع کی۔اس کے بعد آپ لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات کے سلسلہ میں تشریف لاتے رہے۔آپ کو فوجداری مقدمات میں خاص مہارت حاصل تھی۔” کر اس ایگزامینشن میں آپ کی مہارت مسلمہ خیال کی جاتی تھی۔ماتحت عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان آپ کا بہت احترام کرتے اور مشکل مقامات پر آپ سے رہنمائی بھی لیتے تھے۔آپ کی بات کو اتنا سچ سمجھتے کہ آپ کی دی ہوئی اتھارٹی کو بعض اوقات بغیر حوالے کے تسلیم کر لیتے تھے۔