تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 22
۲۲ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم بھی مناتے ہیں کیونکہ ۲۳ / مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی جس کے نتیجہ میں الگ ریاست معرض وجود میں آئی۔جماعت احمدیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے پاکستان کے قیام اور استحکام کے سلسلہ میں گرانقدر خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی جو تاریخ پاکستان کا ایک سنہری اور روشن باب ہے۔اس تاریخی دن کے حوالے سے مجلس انصاراللہ ربوہ ہر سال آل ربوہ ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد کرتی ہے۔امسال بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے آٹھویں آل ربوہ سالانہ کھیلیں ۲۳ مارچ کو کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئیں۔”جوانوں کے جوان انصار نے دلچسپی اور ذوق وشوق کے ساتھ ان کھیلوں میں حصہ لیا اور اس تاریخی دن کو بھر پور طریق پر منایا۔سالانہ مقابلہ جات کی تیاری فروری میں شروع کروادی گئی تھی۔انفرادی کھیلوں کے ابتدائی مقابلے ہر حلقہ میں ہوئے اور اول آنے والے کھلاڑیوں نے ۲۳ مارچ کی سالانہ کھیلوں میں اپنے حلقے کی نمائندگی کی۔اللہ تعالیٰ کے احسان سے اس دفعہ حلقہ جات میں مقابلوں کی پوزیشن گزشتہ سالوں کی نسبت بہت بہتر رہی جس سے انصار کی صحت جسمانی کے پروگراموں میں دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔اجتماعی مقابلوں میں سے رسہ کشی اور والی بال کے ابتدائی مقابلے ۲۰ فروری کو دار الرحمت غربی کی گراؤنڈ میں منعقد ہوئے۔رسہ کشی: رسہ کشی کے لئے چار ٹیموں کو سیمی فائنل کے لئے منتخب کیا گیا۔صدر بلاک (الف) ۲۔صدر بلاک (ب) ۳۔نصر بلاک ۴۔رحمت بلاک (ب) ۲۳ / مارچ کو پہلا سیمی فائنل مقابلہ صدر بلاک (الف) اور صدر بلاک (ب) کے مابین جبکہ دوسرا سیمی فائنل نصر بلاک اور رحمت بلاک (ب) کے مابین منعقد ہوا۔دونوں مقابلے بہت دلچسپ تھے۔صدر بلاک (الف) اور نصر بلاک کی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔فائنل مقابلہ بھی بہت دلچسپ رہا جو نصر بلاک کی ٹیم نے جیت لیا۔والی بال: ۲۰ فروری کو والی بال کے مقابلے ہوئے جن میں ہر ٹیموں نے حصہ لیا اور رحمت بلاکس اور نصر ویمن بلاک کی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔۲۳ / مارچ کو فائنل مقابلے میں رحمت بلا کس کی ٹیم نے یہ مقابلہ جیت لیا۔انفرادی کھیلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کے اسماء گرامی سائیکل ریس: اول :۔چوہدری افتخار احمد صاحب ناصر آباد شرقی۔دوم : عمر حیات صاحب فیکٹری ایریا سوم : رفیق احمد صاحب دار الفضل غربی۔