تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 313 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 313

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۹۳ علاقہ کراچی ( کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین سانگھڑ، دادو) مکرم نعیم احمد خان صاحب ۲۰۰۰ء تا۲۰۰۳ء علاقہ سکھر سکھر، جیکب آباد، خیر پور، لاڑکانہ، شکار پور، نوابشاہ) مکرم ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب ۲۰۰۰ء مکرم سیف علی شاہد صاحب ۲۰۰۱ ء تا ۲۰۰۲ء علاقہ سرحد مکرم شمس الدین اسلم صاحب ۲۰۰۰ء ۲۰۰۳ء علاقہ فیصل آباد: مکرم شیخ رفیق احمد صاحب ۲۰۰۰ء مکرم چوہدری محمد اشرف کا ہلوں صاحب ۲۰۰۱ تا ۲۰۰۳ء علاقہ راولپنڈی: مکرم عبدالواحد ورک صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء علاقہ لاہور: مکرم عبد الحلیم طیب صاحب ۲۰۰۰ء مکرم طاہر احمد ملک صاحب ۲۰۰۱ ء تا ۲۰۰۳ء ناظمین اضلاع دستور اساسی مجلس انصار اللہ کے مطابق ضلع کے اعلیٰ عہدیدار کو ناظم ضلع کہتے تھے (دستور اساسی میں ترمیم کے بعد ۲۰۱۵ء سے اب ناظم اعلی ضلع کہلاتے ہیں ) صدر مجلس ضلع کے کسی مناسب ناصر کو اس عہدہ پر ایک سال کے لئے نامزد کرتے ہیں۔ضلع کی جملہ مجالس کو بیدار رکھنا اور مرکزی ہدایات اور لائحہ عمل پر پوری طرح عمل کروانا ، ناظم ضلع کے فرائض میں داخل ہے۔ناظم ضلع اپنی مجلس عاملہ نامزد کر کے صدر مجلس سے منظوری حاصل کرتے ہیں۔مجلس عاملہ ضلع کا اجلاس ہر تین ماہ میں ایک بار منعقد ہونا ضروری ہے نیز ہر سال ضلع بھر کی مجالس کا سالانہ اجتماع منعقد کروانا بھی ناظم ضلع کے فرائض میں داخل ہے۔ناظم ضلع کو ہر ماہ اپنے کام کی رپورٹ صدر مجلس کی خدمت میں بھجوانی ہوتی ہے۔ذیل میں تقرری کے سال کے ساتھ ناظمین کی فہرست دی جارہی ہے۔اسلام آباد: مکرم چوہدری عبدالواحد ورک صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء۔اوکاڑہ: مکرم شیخ طارق محمود صاحب ۲۰۰۰ ء۔مکرم پروفیسر چوہدری امان اللہ صاحب ۲۰۰۱ء مکرم چوہدری شفیق احمد صاحب ۲۰۰۲ تا ۲۰۰۳ء اٹک مکرم سرفراز احمد خانصاحب ۲۰۰۰ء تا ۲۰۰۱ء، مکرم امتیاز احمد قریشی صاحب ۲۰۰۲ ء تا ۲۰۰۳ء بہاولنگر مکرم شیخ کریم الدین صاحب ایڈووکیٹ ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء۔بہاولپور : مکرم چوہدری شبیر حسین بھٹی صاحب ۲۰۰۰ تا ۲۰۰۳ء۔