تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 312 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 312

۲۹۲ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۳۸۱ هش/ ۲۰۰۲ء : صدر محترم کی طرف سے مؤرخہ 4 مارچ ۲۰۰۳ ء کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں نتائج بغرض منظوری بھجوائے گئے اس پر مکرم منیر احمد جاوید 66 صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نے مؤرخہ 4 مارچ ۲۰۰۳ء کو تحریر کیا کہ حضور نے فرمایا : ” منظور ہے۔“ اول مکرم چوہدری عبدالواحد ورک صاحب ناظم ضلع اسلام آباد دوم مکرم طاہر احمد ملک صاحب ناظم ضلع لاہور مکرم قریشی محمود احمد صاحب ناظم ضلع کراچی سوم مکرم چوہدری مبارک احمد صاحب ناظم ضلع راولپنڈی ۱۳۸۲هش/ ۲۰۰۳ء: 0۔صدر محترم کی طرف سے مؤرخہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۴ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں نتائج بغرض منظوری بذریعہ فیکس بھجوائے گئے اس پر حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۴ مارچ کو ہی ”۔“ کا نشان لگا کر اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا: 66 اللہ مبارک فرمائے۔“ دو اول مکرم قریشی محمود احمد صاحب ناظم ضلع کراچی دوم مکرم ڈاکٹر چوہدری ناصر احمد جاوید صاحب ناظم ضلع حافظ آباد سوم مکرم ناصر احمد واہلہ صاحب ناظم ضلع میر پور خاص سے دیکھی ناظمین علاقہ ۱۹۹۸ء سے پاکستان کے بعض حصوں کو علاقوں میں تقسیم کر کے وہاں ناظمین علاقہ کا تقرر کیا جاتا ہے قبل ازیں چند اضلاع کے مجموعہ کی نگرانی کے لئے بعض مقامات پر ناظمین اعلیٰ کا تقرر کیا جارہا تھا تا مرکز کی ہدایات کی روشنی میں اضلاع اور مجالس کے کام کو مزید منظم کیا جا سکے۔ناظم علاقہ کا تقر ر صدر محترم بذریعہ نامزدگی کرتے ہیں اور یہ تقر ر ایک سال کے لئے ہوتا ہے۔علاقہ کی حدود کا تعین بھی صدر مجلس کے اختیار میں ہے۔مختلف اضلاع کے مجموعہ کو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے علاقہ کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے دائرہ کار میں وقتا فوقتا تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ناظم علاقہ ۲۰۱۵ء سے ناظم اعلیٰ علاقہ کہلاتے ہیں۔