تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 309 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 309

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۸۹ متفرق مگر اہم امور مقابلہ حسن کارکردگی بین المجالس و اضلاع مجالس اور عہدیداران کے مابین مسابقت نیز حوصلہ افزائی کی خاطر علی الترتیب قواعد کی روشنی میں علم انعامی اور اسناد خوشنودی دیئے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ہر سال صدر محترم قائدین پر مشتمل کمیٹی برائے مقابلہ بین المجالس اور اضلاع تشکیل کرتے ہیں۔یہ کمیٹی مجالس اور اضلاع کی کارکردگی کی جزئیات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ صدر مجلس کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔ان رپورٹس کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور پھر مجلس عاملہ کے مشورہ کے بعد صدر محترم مقابلہ کے نتائج کو خلیفہ وقت کے حضور پیش کر کے منظوری حاصل کرتے ہیں۔۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۳ ء تک کے نتائج حسب ذیل ہیں : مقابلہ حسن کارکردگی بین المجالس ۱۳۷۹هش/ ۲۰۰۰ء: مکرم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب صدر اسناد خوشنودی و علیم انعامی کمیٹی نے ۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء کے اجلاس عاملہ میں کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔مجلس عاملہ نے کمیٹی کی رپورٹ کا مفصل جائزہ لینے کے بعد اسناد خوشنودی ناظمین اضلاع اور مقابلہ بین المجالس میں اعزاز حاصل کرنے والی مجالس کی فہرست سیدنا حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری کے لئے بھجوانے کی سفارش کی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں نتائج بغرض منظوری بھجوائے گئے اس پر مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نے مورخه ۲۶ دسمبر ۲۰۰۰ء کو تحریر کیا کہ حضور نے فرمایا ہے۔ٹھیک ہے۔اللہ مبارک کرے۔“ اول اور علیم انعامی کی حقدار: دار السلام لاہور دوم : ٹاؤن شپ لاہور سوم : دار الحمد فیصل آباد چہارم: بیت الاحد لا ہور پنجم مجلس مقامی ربوه ششم : دارالذکر فیصل آباد ہفتم : بیت التوحید لاہور ہشتم : مارٹن روڈ کراچی نهم : ماڈل کالونی کراچی دہم : اسلام آباد شمالی 1