تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 277 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 277

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۵۷ دستور اساسی قواعد انتخاب میں تبدیلی واشاعت دستور اساسی ایڈیشن نہم دستور اساسی مجلس انصار اللہ کے قواعد انتخاب کے مطابق کوئی ایسا شخص ووٹ دینے یا عہدہ دار منتخب ہونے کا اہل نہیں تھا جو صدرانجمن احمد یہ تحریک جدید ، وقف جدید اور مجلس انصاراللہ کے چندوں کا بقایا دار ہو۔سید نا حضرت خلیفہ المسح الربع رحمہ للہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۲ نومبر ۱۹۹۸ءمیں فرمایا: لازمی چندے وہی ہیں جن کو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں اپنے اوپر بحیثیت جماعت اور افراد پر ذمہ داریاں ڈالتے ہوئے بحیثیت جماعت اختیار کر لیا ہے۔اس جماعت کے فیصلے میں ساری جماعت داخل ہے۔اس میں تمام قسم کی وہ تنظیمات جو فیصلہ کر کے ایک چندے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔مرکزی چندہ عام کہلاتا ہے۔طوعی لازمی چندہ وصیت کا چندہ ہے۔وہ پھر اس کے علاوہ خدام الاحمدیہ کا چندہ ، انصار الله، لجنہ اماءاللہ وغیرہ۔اب سب کے چندے ،اطفال کے چندے، یہ لازم تو ہیں مگر مل کر جماعت نے خود لازم کئے ہیں۔جو تحریک جدید کا یا وقف جدید کا چندہ ہے یہ ان معنوں میں لازم نہیں ہے۔اگر کوئی بنیادی سب چندے ادا کر رہا ہو اور یہ چندے نہ دے تو جماعت کی طرف سے اس پر کوئی حرف نہیں رکھا جاتا۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جماعت کا حصہ ہیں لیکن وہ اولین اور سابقین میں شمار نہیں ہوسکتا۔جو آگے بڑھنے والے ہیں ، سبقت لے جانے والے ہیں ان میں شمار نہیں ہوگا مگر جماعتی نظام کے لحاظ سے عہدے ہر قسم کے اس کو ملیں گے، ووٹ دینے کا حق ہوگا، نظام جماعت کی دوسری دلچسپیوں میں پوری طرح حصہ لینے کا حق ہوگا۔ان حقوق سے اسے نہیں روکا جاسکتا۔اس ارشاد کی تعمیل میں صدر انجمن احمدیہ نے اپنے قواعد انتخاب میں تبدیلی کر کے حضرت خلیفہ اسیح سے نئے قاعدہ کی منظوری حاصل کر لی۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقد ہ ۶ ۲ ستمبر ۲۰۰۱ء میں مکرم