تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 3
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم مجلس انصاراللہ اپنے قیام کے بعد سے اب تک خلفائے احمدیت کے زریں ارشادات کی روشنی میں اپنالائحہ عمل مرتب کرتی رہی ہے۔مجلس کی خوش بختی ہے کہ اسے خلافت احمدیہ کی براہِ راست نگرانی ، رہنمائی اور شفقت حاصل ہے۔ہر گزرتا ہوا دن اس حقیقت کا غماز ہے کہ اس شجرہ طیبہ کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر اور اس کی سرسبز اور سدا بہار شاخیں ایک عالم کو اپنی آغوش میں لیتی چلی جارہی ہیں۔مجلس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنے نام کی مناسبت سے خلفائے احمدیت کا سلطان نصیر ہو نے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔تاریخ کا ورق ورق اس امر کو بالبداہت واضح کر رہا ہے کہ خلفائے احمدیت کی خاص شفقت اور رہنمائی میں پروان چڑھتی ہوئی یہ رفعتوں کی ایک منزل سے اگلی منزل کی طرف گامزن رہی اور آج بلندیوں کے سفر پر آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس سے قبل " تاریخ انصار اللہ کی تین جلدیں زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں جس میں آغاز سے ۱۹۹۹ ء تک کے حالات درج ہیں یعنی مجلس کی ساٹھ سالہ زندگی کا مختصر احاطہ کیا گیا ہے۔اب اس جلد میں اس سے اگلے چار سالوں کا ایک مجمل سا خاکہ پیش کیا جائے گا جو مکرم دمحترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ایم اے کے عہد صدارت پر مشتمل ہے۔وما توفيقى الا بالله العظيم۔