تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 227
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ذیل قرار داد مجلس انصار اللہ پاکستان نے منظور کی۔۲۰۷ ”ہم اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم سے چور ہیں۔آپ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو قدرتِ ثانیہ کا مظہر چہارم بنایا۔۱۹۸۲ء سے ۲۰۰۳ء تک آپ کا اکیس سالہ مبارک دور تاریخ احمدیت کا ہر لحاظ سے یادگار دور ہے۔۱۹۸۴ء کا ابتلاء۔۔۔۔جب مخالفین نے بھر پور طاقت کے نشے میں احمدیت کے تمام راستے مسدود کر دیئے مگر خدائے کریم و قادر نے عظیم الشان قدرت کا ہاتھ دکھایا۔خلافت کی عظمت اور زیادہ چمک اٹھی۔انسانیت کے ہر حصے کو جلیل القدر خطبات اور معارف سے پر خطابات ملے۔سو سالہ جلسہ سالانہ قادیان میں منعقد ہوا۔اور ایم ٹی اے کے ذریعے عالمگیر رشد و ہدایت کا سامان ہو گیا۔عالمی بیعت نے ترقیات کو نئی جہتیں عطا کیں۔آپ کے مبارک دور میں احمدیت پہلے سے دو چند ممالک میں قائم ہوگئی۔بجٹ اربوں میں پہنچا۔حضور کی روح پرور ، دلگداز اور مجمع کو گرما دینے والی جمال و جلال سے لبریز آواز عرصہ دراز تک آپ کی یا دیں زندہ رکھے گی۔علم الابدان کے لحاظ سے آپ نے ہمیشہ اپنا دامن فیض پھیلائے رکھا۔جگہ جگہ لاکھوں کی تعداد میں آپ کے دم مسیحائی سے صحت وشفاء پانے والے آپ کے لئے دعا گو ہیں۔پھر ہومیو پیتھی کلاسز نے بھی ایک کثیر التعداد تخلصین کو پیغام شفا میں بدل دیا۔علم الادیان کے لحاظ سے تعلیم القرآن کی کلاسز ، رمضان المبارک کے درس، بے انتہاء علوم و معارف اور حقائق و دقائق سے پُر خطبات جمعہ اور جلسوں کی بے شمار تقریروں کے علاوہ مجالس عرفان عطا کیں۔بچوں کو اور خواتین کو ، عرب مخلصین اور فرنچ ، انگریزی، بنگلہ، جرمن زبانیں جاننے والوں کو عام مجالس سوال و جواب میں شامل کر کے ساری دنیا کو حیات کو سے ہمکنار فرمایا۔نیز ایک علمی خزانہ متعدد کتب کی صورت میں آپ کی یادگار ہے۔خداوند کریم نے اپنی رضا کے حصول کی جو بھوت حضور کے دل میں جگائی تھی ہم پوری