تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 2 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 2

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم مہمات دینیہ کو سر کرنے میں حضور کی کا وشوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔حضور نے اس راہ میں اپنا مقدس خون بھی پیش کر دیا جس پر ربوہ کی مسجد مبارک گواہ ہے۔عے ہمارے جسموں پر جو ہے بیتی وہ خاک ربوہ نشان دے گی جماعتی تنظیم کو مضبوطی عطا کرنے میں حضور نے اپنی خدا داد فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے غیر معمولی محنت ، مشقت اور جدو جہد سے کام لیا۔سلسلہ کے کاموں کو مستحکم کرنے اور نیکیوں کو نسلاً بعد نسل قائم رکھنے کے لئے ذیلی تنظیموں کا قیام فرمایا۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی مجلس انصاراللہ ہے۔تنظیم انصار اللہ کے اغراض و مقاصد حضرت مصلح موعود نے جہاں انصار کی الگ تنظیم قائم کرنے کا ارشاد فرمایا وہاں ان کے لیے لائحہ عمل بھی خود تجویز فرمایا تا کہ صحیح خطوط پر بلا توقف کام شروع کیا جا سکے۔اس تنظیم کے قیام سے جو مقاصد حضور کے پیش نظر تھے، ان کا ذکر بڑی تفصیل سے حضور نے اپنے بعض خطبات اور تقاریر میں فرمایا۔ذیلی تنظیموں کے قیام کی مندرجہ ذیل چھ اہم اغراض حضور نے بیان فرمائیں : ایمان بالغیب، اقامت صلوۃ، انفاق فی سبیل اللہ ، ایمان بالقرآن، بزرگان دین کا احترام اور یقین بالآخرۃ۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے خطبات اور تقاریر کا خلاصہ یہ ہے کہ انصار اللہ کی تنظیم اس غرض کے لیے قائم کی گئی ہے کہ وہ۔ا: جماعت ت میں نیکی و تقویٰ پیدا کرے ، دینی عقائد کو ذہن نشین کرائے، اعمال خیر کی ترویج میں کوشاں ہو کر اچھی تربیت کے سامان پیدا کرے۔۲: نمازوں کے قیام کی طرف خصوصی توجہ کرے۔: قرآن کریم کے سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام کرے اور احکام شریعت کی حکمتیں لوگوں پر واضح کرے۔۴: اجتماعی اور انفرادی دعوت الی اللہ بالخصوص رشتہ داروں کو دعوت الی اللہ کرنے کی طرف متوجہ ہو۔خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لے۔: قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کر کے اسے ترقی کے میدان میں آگے بڑھائے۔ے: جماعت میں بیداری پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کی کوشش کرے اور اس غرض کے لئے دوسری تنظیموں سے تعاون کرے تا کہ جماعتی اتحاد میں کوئی رخنہ واقع نہ ہو۔