تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 133 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 133

112 تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ا۔مکرم عبدالرشید غنی صاحب ۲ مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب ۳ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب ۴۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب ۵- مکرم کیپٹن شمیم احمد خالد صاحب ۶ مکرم عبدالخالق خالد صاحب ۷ مکرم منیر احمد بسمل صاحب ۹ مکرم سید طاہر احمد صاحب ۱۰۔مکرم چوہدری لطیف احمد جھمٹ صاحب مکرم نصیر احمد چوہدری صاحب قائمقام زعیم اعلیٰ ربوہ ۱۱۔مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب ۱۲۔مکرم منور شمیم خالد صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جو مکرم منیر احمد صاحب بسمل نے کی۔صدر اجلاس نے انصار اللہ کا عہد دہرایا۔عہد کے بعد گذشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جو متفقہ طور پر درست قرار دی گئی۔رجسٹر پر صدر محترم نے اپنے تو شیقی دستخط ثبت فرمائے۔بعد ازاں قائدین نے اپنی اپنی ماہانہ کو الف و کارکردگی رپورٹ برائے جون ۲۰۰۲ ء پیش کی۔سب سے پہلے قیادت عمومی کی رپورٹ پڑھی گئی۔صدر محترم نے قائدین کی توجہ اس اہم امر کی طرف مبذول فرمائی کہ زعامت علیاء اور ناظمین اضلاع کی ماہوار ر پورٹس پر قائدین کے ٹھوس تبصرے اولین ترجیح کے ساتھ جلد جانے چاہئیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ قائدین ہر ماہ کی دس سے ہیں تاریخ تک عصر تا مغرب دفتر کھلنے کی سہولت سے فائدہ اُٹھائیں اور خود دفتر حاضر ہو کر اپنے شعبہ کے کوائف اور کار کردگی نوٹ کریں اور رپورٹس پر تبصرہ کیا کریں اور خط و کتابت ساتھ ساتھ نمٹاتے رہیں۔صدر محترم نے دورہ پر جانے والے قائدین کو ہدایت فرمائی کہ طویل اجلاسِ عام منعقد نہ کریں۔چالیس پینتالیس منٹ کا اجلاس کافی ہے۔البتہ زعماء اور عہدیداران کے ساتھ الگ نشست اور ذاتی تعارف و ملاقات کر کے انہیں رپورٹ فارم پُر کرنا سکھا ئیں تا کہ وہ کوئی خانہ خالی نہ چھوڑیں اور مطلوبہ معین کوائف سے مرکز کو آگاہ کریں۔سٹور کے پرانے ریکارڈ اور ماہنامہ کے پرانے رسائل کے متعلق فرمایا کہ خصوصی شمارے زعامت ہائے علیاء میں تقسیم کر دیئے جائیں اور عام شمارے مقامی مجالس میں مرکزی وفود کے ذریعہ انصار میں تقسیم کروادیے جائیں۔قیادت عمومی کے بعد قیادت اشاعت تعلیم القرآن، جنید ، ایثار، اصلاح وارشاد، وقف جدید ، تربیت