تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 69 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 69

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۶۹ تیسرا آل پاکستان بیڈ منٹن ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ مجلس انصار اللہ پاکستان کے زیر اہتمام آل پاکستان بیڈ منٹن ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ مورخہ ۲۳ ۲۴ اور ۲۵ فروری ۲۰۰۱ ء ایوان محمود ربوہ میں منعقد کیا گیا۔قبل ازیں یہ ٹورنا منٹ صرف بیڈمنٹن تک محدود تھا۔۱۳ مارچ ۲۰۰۰ء کے اجلاس مرکزی عاملہ میں صدر محترم نے ہدایت فرمائی تھی کہ ٹیبل ٹینس کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے چنانچہ اس سال یہ ٹورنا منٹ بیڈ منٹن ٹیبل ٹینس کی کھیلوں پر مشتمل تھا۔افتتاحی تقریب : اس ٹورنامنٹ کا افتتاح مورخہ ۲۳ / فروری بروز جمعہ تین بجے سہ پہر ایوان محمود ہال میں ہوا۔افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس انصار الله پاکستان تھے۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد منتظم اعلیٰ ٹورنامنٹ مکرم پروفیسر قریشی عبدالجلیل صادق صاحب قائد ذہانت و صحت جسمانی انصار اللہ پاکستان نے رپورٹ پیش کی۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ۱۹۹۹ء میں اس ٹورنامنٹ کا آغاز کیا گیا اور پہلے ٹورنا منٹ میں، جو صرف بیڈ منٹن پرست پر مشتمل تھا، بارہ اضلاع کے تمھیں کھلاڑی شامل ہوئے تھے۔دوسرے بیڈ منٹن ٹورنامنٹ منعقدہ ۲۰۰۰ء میں گیارہ اضلاع کے بیالیس انصار شامل ہوئے تھے اور امسال خدا کے فضل سے ربوہ سمیت تیرہ اضلاع کے چھیاسی کھلاڑی شامل ہوئے ہیں۔امسال پہلی بار بیڈ منٹن کے ساتھ ٹیبل ٹینس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔محترم صدر صاحب مجلس نے ٹورنامنٹ کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے که انصار سارا سال جسمانی ورزش کرتے ہوئے اپنی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔افتتاحی تقریب کے موقع پر راولپنڈی کے دو انصار ( بھائیوں ) مکرم پیر افتخار الدین صاحب اور مکرم پیرانصارالدین صاحب کے درمیان ٹیبل ٹینس کا افتتاحی میچ کھیلا گیا۔بعد ازاں لیگ میچز کا آغاز ہوا۔ٹورنامنٹ کی تفصیل : اس ٹورنا منٹ میں انصار کو عمر کے لحاظ سے دوحصوں میں تقسیم کیا گیا یعنی صف اول اور صف دوم کے الگ الگ مقابلے کروائے گئے۔چنانچہ بیڈ منٹن اور ٹیبل ٹینس دونوں کھیلوں میں سنگل اور ڈبل کے الگ الگ مقابلے ہوئے یوں ٹورنامنٹ میں کل آٹھ ایوینٹس (Events) رکھے گئے۔کھلاڑیوں کو مختلف پولز (Pools) میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور یہ میچز لیگ کی بنیاد پر کھیلے گئے۔رات گئے تک میچز منعقد ہوتے رہے۔جس میں انصار اللہ کا جوش و خروش دیدنی تھا۔