تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 322 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 322

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم خدمت حضور انور کی خدمت میں بھجوائی جاتی ہے جس میں ہر فرد کے اس سے قبل مجلسی ، جماعتی یا ذاتی طور پر جلسہ سالانہ انگلستان میں شرکت کے مواقع کا ذکر بھی ہوتا ہے۔فہرست ملاحظہ فرمانے کے بعد حضور نمائندگان کا تقررفرماتے ہیں۔مجلس انصاراللہ پاکستان کی نمائندگی میں ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۳ء تک مندرجہ ذیل احباب کو شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔۲۰۰۰ ء : مکرم مولا نا محمد اعظم اکسیر صاحب ( قائد اصلاح وارشاد) ۲۰۰۱ء : مکرم پروفیسر منور شمیم خالد صاحب ( قائد وقف جدید ) ہمکرم رشید احمد ارشد صاحب ( کارکن) ۲۰۰۲ء : مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب ( قائد عمومی )، مکرم محمد سلیم جاوید صاحب ( کارکن) ۲۰۰۳ء : مکرم لطیف احمد جھمٹ صاحب ( قائد وقف جدید ) مکرم شیخ بشارت احمد صاحب ( کارکن) مرکزی مجلس مشاورت میں مجلس کی نمائندگی جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں میں مضبوط رابطہ قائم رکھنے کے لئے سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۴۵ء میں فیصلہ فرمایا تھا کہ مرکزی مجلس مشاورت میں ذیلی تنظیموں کے دو دو نمائندے شامل ہوا کریں۔صدر مجلس، بطور مبر صدرانجمن احمد یہ مجلس مشاورت کے نمائندہ ہوتے ہیں۔صدر مجلس کی طرف سے نمائندگان کے نام سید نا حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت بابرکت میں بغرضِ منظوری بھجوائے جاتے ہیں۔۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۳ ء تک کی مجلس مشاورت جماعت احمدیہ پاکستان میں جن احباب کو مجلس انصاراللہ پاکستان کی نمائندگی کا شرف ملا ، اُن کے اسماء یہ ہیں۔۲۰۰۰: مکرم منور شمیم خالد صاحب ( قائد وقف جدید ) مکرم ڈاکٹر عبد الخالق خالد صاحب ( قائد تعلیم ) ۲۰۰۱ ء : مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب ( قائد تجنید ) ، مکرم عبدالجلیل صادق صاحب ( قائد ذہانت و صحت جسمانی ) ۲۰۰۲ مکرم مبارک احمد طاہر صاحب ( قائد تربیت)، مکرم سید قاسم احمد شاہ صاحب ( قائد ایثار ) ۲۰۰۳ء : مکرم کیپٹن شمیم احمد خالد صاحب ( قائد تربیت نومبائعین ) مکرم منیر احمد بسمل صاحب ( قائد تعلیم القرآن ) ایم ٹی اے کے لئے خدمات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ۱۹۸۴ء میں پاکستان سے ہجرت کے بعد ایک ٹی وی چینل کے قیام