تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 316 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 316

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۹۶ ٹھٹھہ: مکرم مبارک احمد سندھو صاحب ۲۰۰۰ء۔۲۰۰۳ء خیر پور مکرم ماسٹر بشیر احمد صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء سکھر: مکرم طاہر احمد تنویر صاحب ۲۰۰۰ء، مکرم ارشد علی بھلر صاحب ۲۰۰۱ ء تا ۲۰۰۳ء سانگھڑ مکرم رانا محمد سلیم صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء عمر کوٹ : مکرم ناصر احمد واہلہ صاحب ۲۰۰۰ء،۲۰۰۱ء لاڑکانہ: مکرم علی سرور ابر و صاحب ۲۰۰۰ تا ۲۰۰۱ء مکرم سراج احمد ابڑو صاحب ۲۰۰۲ تا ۲۰۰۳ء نوشہرو فیروز : مکرم محمد ارشد میمن ۲۰۰۰ ء مکرم محمد صدیق میمن صاحب ۲۰۰۱ تا ۲۰۰۳ء نوابشاہ: مکرم ملک سعادت احمد صاحب ۲۰۰۰ تا ۲۰۰۱ء، مکرم محمد اشفاق احمد صاحب ۲۰۰۲ تا ۲۰۰۳ء کراچی: کرم قریشی محمود احمد صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۳ء کوئٹہ مکرم چوہدری محمد نواز سیال صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۱ء مکرم مقصود احمد صاحب انجینئر ۲۰۰۲ ء تا ۲۰۰۳ء۔ہزارہ ڈویژن : مکرم ذوالفقار احمد صاحب ۲۰۰۰ء تا۲۰۰۳ء پشاور: مکرم پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال صاحب ۲۰۰۰ء تا۲۰۰۳ء کوہاٹ: مکرم محمد احمد تنویر صاحب ۲۰۰۱ تا ۲۰۰۳ء مردان : مکرم حاجی نعیم احمد صاحب ۲۰۰۰ ء مکرم سید سعادت علی شاہ صاحب ۲۰۰۱ تا ۲۰۰۳ء نوشہرہ: مکرم پروفیسر مرزا بشیر احمد صاحب ۲۰۰۰ تا ۲۰۰۳ء کوٹلی آزاد کشمیر: مکرم چوہدری عبدالرحمن صاحب ۲۰۰۰ ء تا ۲۰۰۱ء مکرم حاجی امیر عالم صاحب ۲۰۰۲ ء تا ۲۰۰۳ء میر پور آزاد کشمیر: مکرم منیر احمد چوہان صاحب ۲۰۰۰ء۔۲۰۰۱ء مکرم میاں عبدالرشید صاحب ۲۰۰۲ ء تا ۲۰۰۳ء زعمائے اعلیٰ انصار الله وہ مقام جہاں مجلس ایک سے زائد حلقوں پر مشتمل ہو وہاں زعیم اعلیٰ کا تقرر ہوتا ہے اور وہ جگہ یا مقام جہاں حلقے نہ ہوں وہاں زعیم مقرر ہوتا ہے۔( دستور اساسی طبع ششم قاعدہ نمبر ۲۲ الف، ب )