تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 298
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۲۷۸ ۱۹۹۹ء میں سالانہ چندہ ساٹھ روپے سالانہ تھا۔کاغذ، ڈاک اور دیگر اخراجات میں اضافہ کے باعث مختلف اوقات میں اس کی سالانہ شرح میں ضافہ کیا جاتا رہا۔چنانچہ یکم جنوری ۲۰۰۰ء سے سالانہ چندہ ستر روپے اور یکم جولائی ۲۰۰۱ء سے ایک سو روپیہ مقرر کیا گیا۔یہاں یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ یہ چندہ صرف علامتی اور واجبی ہے اور اس سے ماہنامہ کے عملہ اور اشاعت وغیرہ کے دیگر اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ماہنامہ کے ضخیم خاص نمبر ز ، جن پر اخراجات خاصے زیادہ ہوتے ہیں، سالانہ خریداران کو زائد چندہ لیے بغیر مہیا کیے جاتے ہیں۔ماہنامہ انصار اللہ کی پالیسی کے مطابق رسالہ میں اشتہارات شائع نہیں ہوتے اور اسے تربیتی اور تعلیمی اغراض کے لئے شائع کیا جاتا ہے لہذا مالی بوجھ کم کرنے کے لئے ہر سال مرکزی مجلس اپنے بجٹ سے : امدادی رقم فراہم کرتی ہے۔علمی مضامین: انی اعلیٰ روایات کو قائم رکھتے ہوئے ماہنامہ س عرصہ میں بلند پایلی تحقیقی مضامین کی اشاعت کرتا رہا جو قارئین کی ذہنی و قلبی تسکین کا سامان بہم پہنچاتے رہے۔مثال کے طور پر چند مضامین کا ذکر کیا جاتا ہے۔خصوصی اشاعتوں میں تحریر کئے جانے والے مضامین کا تذکرہ الگ سے کیا جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل مکرم مولانا نصر اللہ خاں صاحب ناصر ) جنوری، فروری ، جون، جولائی ، اگست ۲۰۰۰ء 1900ء کے اہم واقعات ونشانات پر طائرانہ نظر جنوری فروری ۲۰۰۰ء ( مکرم حبیب الرحمن صاحب زیروی) ید چالیس سال کی عمر اور خدائی فرمان فروری ۲۰۰۰ء ( مکرم عبدالقیوم صاحب۔راولپنڈی) قصیدہ نعمت اللہ شاہ ولی۔بہائی رسالہ فتحات کے مغالطوں کی حقیقت جون تا دسمبر ۲۰۰۰ ء ، مارچ ( مکرم مولانا سلطان محمود انورصاحب) ۲۰۰۱ء ، نومبر تا دسمبر ۲۰۰۲ء مخدوم الملت حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی کی تصنیفات کا اجمالی جولائی ۲۰۰۰ء جائزہ ( مکرم احمد طاہر مرزا صاحب)