تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 278
۲۵۸ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ایڈیشنل ناظر صاحب بیت المال آمد کی چٹھی بنام مکرم صدر صاحب مجلس پیش ہوئی جس میں انہوں نے تحریر کیا تھا کہ حضور انور کی منظوری سے جماعتی انتخابات میں تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کی بقایا داری ختم کر دی گئی ہے۔اب جماعتی انتخابات میں صرف صدرانجمن احمد یہ کے لازمی چندہ جات کا بقایا دارہی بقایا دار شمار ہوتا ہے۔اس تناظر میں مجلس انصار اللہ کے قواعد میں اگر کوئی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہو تو کر لی جائے۔اس صورت میں لازم تھا کہ مجلس انصاراللہ کے دستور اساسی میں بھی ترمیم کی جاتی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ قاعدہ نمبر ۲ ج میں تبدیلی کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح کی خدمت میں منظوری کے لئے لکھا جائے۔اس پس منظر میں صدر محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں جو خط لکھا وہ مندرجہ ذیل ہے: بسم الله الرحمن الرحيم سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرموده ۶ رنومبر ۱۹۹۸ء میں جماعتی انتخابات میں چندہ تحریک جدید اور وقف جدید کی بقایا داری ختم فرما دی تھی۔صدرانجمن احمدیہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں قاعدہ نمبر ۳۰۹ میں زیر ریز ولیشن نمبر ۱۶/۱۳-۱۰-۹۹ غ م مندرجہ ذیل الفاظ کی منظوری کی سفارش کی جسے حضور نے منظور فرمایا۔قاعدہ نمبر ۳۰۹: چندہ دہندگان سے مراد وہ اصحاب ہیں جو اپنا چندہ با قاعدگی کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور جن کے ذمہ چندہ عام اور چندہ حصہ آمد چھ ماہ سے زائد عرصہ کا اور چندہ جلسہ سالانہ کا ایک سال سے زائد کا بقایا نہ ہو۔یہی شرط صحابہ حضرت مسیح موعود پر بھی عائد ہوگی۔صدر انجمن احمدیہ کے اس قاعدہ کے مطابق مجلس انصار اللہ پاکستان کے دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۲۲ ( عمومی قواعد مقرر عہدیداران ) جز (ج) میں تبدیلی کی ضرورت ہے جس کی حضور کی خدمت میں منظوری کی سفارش ہے۔موجودہ قاعدہ: وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور مجلس انصاراللہ کے چندوں کی ادائیگی میں