تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 961 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 961

۹۶۱ اس لئے جب میں آپ سے خطاب کرتا ہوں تو آپ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ آپ میں سے ہر ایک نے اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے اور آپ انفرادی ذمہ داریوں سے کسی صورت میں سبکدوش نہیں ہو سکتے لیکن مرکزی مجلس عاملہ اور مقامی مجالس عاملہ کے اراکین پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اس بات پر پختہ یقین ہونا چاہئے کہ اگر وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ جد و جہد کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کے اچھے نتائج ضرور پیدا ہوں گے۔لیکن اگر عہد یدار ان ہی انصار اللہ کے کام کو نہ صرف اختیاری سمجھیں بلکہ غیر ضروری سمجھیں اور یہ خیال کرنے لگیں کہ کام کریں یا نہ کریں اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا تو پھر یہی غفلت کی کیفیت باقی انصاراللہ میں پیدا ہو جائے گی اور ان کا احساس ذمہ داری عہدیداران سے بھی کم ہو جائے گا۔پس یہ وقت ہے کہ مجلس انصاراللہ کے کام کو انقلابی جذبہ سے شروع کیا جائے اور خاص طور پر ایک میدان میں میں آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ضرور برآمد ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ ہے تبلیغ۔دعوت الی اللہ یعنی لوگوں کو خدا کے نام پر خدا کی طرف بلانا۔یہی کام اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہے جو ہم نے کرنا ہے۔میں اس امر کی جتنی بھی تلقین کروں پھر بھی اس کی اہمیت مزید تلقین کا مطالبہ کرتی رہے گی۔اگر میں متواتر آپ لوگوں کو اس کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق تلقین کرتا رہوں پھر بھی میں اپنے فرض کو مکمل طور پر ادا کرنے میں قاصر رہوں گا اور نہ ہی آپ کے دل و دماغ میں اس کی حقیقی اہمیت کونقش کر سکوں گا۔زمانہ بہت تیز رفتاری سے گزررہا ہے۔پہلے ہی یہ ہمیں بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے اور دنیا میں تغیرات رونما ہورہے ہیں اور اس زمانے کونئی شکل دی جارہی ہے اور آپ سے یہ توقع کی گئی ہے کہ آپ نے دنیا کی تقدیر کو بدلنا ہے۔یہ بہت اہم اور مشکل کام ہے جو آپ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے مگر بد قسمتی سے ہم میں سے اکثر نیند کی حالت میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم جماعت میں صرف اپنی ذاتی بیداری کا ثبوت دے دیں تو یہ کافی ہے حالانکہ یہ ہرگز کافی نہیں۔جہاد فی سبیل اللہ، اللہ کے راستہ میں قربانی کرنا۔اللہ کے لئے بدی کے خلاف جنگ کرنا اور اللہ کے لئے دوسروں کو اسلام میں شامل کرنا آدھا ایمان ہے۔ایمان دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک حصہ کا تعلق آپ کی اپنی ذات سے ہے یعنی آپ، آپ کے بیوی بچے اور رشتہ دار اور جماعت۔دوسرے حصہ کا تعلق باقی کی دنیا سے ہے اور یہی ہمیں قرآن کریم اور احادیث نبویہ بتاتے ہیں۔آنحضرت کا اپنا نمونہ بھی اس معاملہ میں نہایت واضح ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ یعنی دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا اگر پہلے حصہ سے زیادہ اہم نہیں تو کم بھی ہرگز نہیں اور اس کے باوجود ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ فروعی حصہ ہے اور ہم کریں یا نہ کریں، کوئی فرق نہیں پڑے گا حالانکہ اس کا یہ اثر ہوا ہے کہ ہم اس مقام سے بہت پیچھے جا پڑے ہیں جس پر ہمیں بہت پہلے پہنچ جانا چاہئے تھا اور ہم اس غفلت کی وجہ سے دوہرے طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔اگر ایک پہیہ کمزور ہے اور دوسرے پینے کی رفتار کا ساتھ نہیں دے رہا تو گاڑی کی رفتار کمزور پینے کی رفتار سے ناپی جائے گی اور گاڑی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے کم ہوتے ہوتے آخر کار ایک وقت ایسا آئے گا کہ گاڑی آگے بڑھنے کی بجائے اپنے گرد ہی چکر لگاتی رہے گی۔پس گاڑی کا