تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 897
۸۹۷ خطاب کیا ، سوالات کے جواب دیئے اور انعامات تقسیم کئے نیز سیدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ کے موضوع پر خطبہ جمعہ دیا۔کل حاضری ستر تھی۔مجلس مذاکرہ دارالذکر لاہور ۲۱ نومبر ۱۹۹۳ء کو مجلس دارالذکر لاہور کے زیر انتظام مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔یہ مجلس تین گھنٹے تک جاری رہی جس میں تئیس غیر از جماعت احباب شامل تھے جن میں سے تین عیسائی صاحبان بھی تھے۔سالانہ اجتماع فیصل آباد ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء کو صبح ساڑھے دس بجے تلاوت ، نظم اور عہد کے بعد مکرم چوہدری غلام دستگیر صاحب امیر ضلع کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا۔مکرم محمد اسلم صاحب شاد منگلا نے تربیت اولاد کے موضوع پر خطاب فرمایا۔بعد ازاں مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے قبولیت دعا کے واقعات بیان کئے اور تربیتی امور اور مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی۔وقفہ طعام کے دوران زعماء مجالس کے اجلاس میں گوشواروں کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور ہدایات دی گئیں۔مکرم ملک منور احمد صاحب جاوید نے خطبہ جمعہ میں حضور" کے ارشادات کی روشنی میں دعوت الی اللہ کی طرف توجہ مبذول کرائی۔سالانہ اجتماع مظفر گڑھ ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء کو نماز جمعہ سے پہلے زعماء مجالس کی میٹنگ ہوئی۔مکرم حکیم نذیر احمد صاحب ریحان نے مرکزی ہدایات اور لائحہ عمل کے مطابق ضروری امور کی طرف توجہ دلائی پھر خطبہ جمعہ میں احباب کو دعاء نماز با جماعت اور ڈش انٹینا کے ذریعہ حضور انور کے خطبات سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کی تلقین کی۔آپ نے اختتامی خطاب میں اجتماعات کی اہمیت بیان کی اور اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود کے ارشادات بھی پڑھ کر سنائے۔مجموعی حاضری سو تھی۔مجلس ربوہ مقامی کا وقار عمل مجلس انصار اللہ مقامی ربوہ نے ۱۷ دسمبر ۱۹۹۳ء بروز جمعہ ربوہ کے تین بلاکوں پر مشتمل ایک وقار عمل کا اہتمام کیا۔صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک بلاک دار العلوم و بلاک دار النصر اور دارالیمن پر مشتمل انصار نے دار العلوم وسطی کی ایک سڑک تعمیر کی۔ایک سو پچاس سے زائد تعداد میں انصا را ور کم و بیش پچاس خدام واطفال نے ایک گھنٹہ لگا تا رمحنت سے کام کر کے پانچ سو پچاس فٹ لمبی سڑک کے اردگرد کی جھاڑیوں کو کاٹا اور نشاندہی کر کے سڑک کو سیدھا کیا۔کڑاہیوں اور ریڑھیوں کی مدد سے ڈھیروں مٹی جو کہ ٹریکٹر کے ذریعہ اکٹھی کی گئی تھی ، سڑک پر ڈالی۔انصار اور ایسے بزرگ جو سہاروں کے ذریعہ مقام و قارعمل پر پہنچے تھے، انتھک محنت کرتے ہوئے ایک عجیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔پانچ سو پچاس فٹ لمبی سڑک ایک ایسے علاقہ میں بنائی گئی جہاں کوئی پکا راستہ