تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 794 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 794

۷۹۴ نے سو کی تعداد میں شمولیت کی۔قریباً پچاس غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی اور سوالات بھی کئے۔مقابلہ جات والی بال زیر اہتمام ضلع کراچی سال ۱۹۸۳ء کے آغاز سے ہی ضلع کراچی نے بین المجالس والی بال مقابلہ جات کا آغاز کیا۔۲۳ستمبر کو ان مقابلہ جات کا فائنل مجلس عزیز آباد اور مجلس صدر کے مابین کے ایم سی کمپلیکس میں منعقد ہوا جس میں مجلس عزیز آباد فاتح رہی۔مجلس مقامی ربوہ کا یک روزه تربیتی اجتماع مجلس مقامی ربوہ کا یک روزه تربیتی اجتماع ۲۴ ستمبر ۱۹۸۳ء کو پونے آٹھ بجے صبح مسجد اقصی میں منعقد ہوا جس میں ربوہ کی تھیں مجالس ( جن میں احمد نگر ، عثمان والا ، طاہر آباد اور چھنی کی مجالس بھی شامل ہیں ) کے نوسو انصار شامل ہوئے اور انہوں نے بڑی دلجمعی کے ساتھ پانچ گھنٹے متواتر بیٹھ کر اجتماع کی کا رروائی سے استفادہ کیا۔تربیتی اجتماع کے افتتاحی اجلاس کا آغا ز زیر صدارت مکرم محمد اسماعیل صاحب منیر قائد اصلاح وارشاد ( نمائندہ مرکز ) تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم قاری محمد عاشق صاحب نے کی جس کے بعد عہد دہرایا گیا اور پھر مکرم پروفیسر محمد اسلم صاحب صابر ایم اے نے نظم پڑھی ازاں بعد منتظم عمومی مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب نے گذشتہ آٹھ ماہ کی رپورٹ کارگزاری پڑھ کر سنائی۔آخر میں نمائندہ مرکز یہ مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر نے افتتاحی خطاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اہم الہام إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجَ اتِيْكَ بَغْتَةً کی تشریح فرمائی اور اس کے ظہور کی متعدد مثالیں بیان کیں۔آپ نے فرمایا ہم مرکز میں رہنے والے انصار ہیں اور اس لئے ہماری ذمہ داریاں دوسری مجالس کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ہمیں ان ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان کو پورا کرنے کے لئے بھر پور کوشش کے ساتھ دوسری مجالس کے لئے نمونہ پیش کرنا چاہیئے۔آپ نے فرمایا جماعت سے اللہ کے انعامات کے بہت سے وعدے ہیں لیکن ان کے حصول کے لئے ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔قربانیوں کا معیار ہم جس قدر بلند کریں گے اسی قدر زیادہ نعمتوں سے حصہ پائیں گے۔آخر میں آپ نے احباب کو دعا پر خوب زور دینے کی تحریک فرمائی۔اجتماعی دعا سے اجلاس کی کا رروائی اختتام پذیر ہوئی۔دوسرا اجلاس محترم مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح و ارشاد کی صدارت میں منعقد ہوا۔یہ درس القرآن ، یہ درس الحدیث اور یہ درس ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مشتمل تھا جو علی الترتیب مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر استاذ الجامعه، مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انو رصد را جلاس اور مکرم ملک لئیق احمد صاحب طاہر نائب وکیل التبشیر نے دیئے۔اس کے بعد مکرم خان بشیر احمد خان صاحب رفیق صد رسب کمیٹی تعمیر دفتر نے چندہ دفتر تعمیر انصار اللہ مقامی سے متعلق رپورٹ پیش کی کہ اس وقت تک ایک لاکھ روپے سے زیادہ رقم کے وعدے ہو چکے ہیں اور بائیس ہزار روپیہ وصول ہو چکا ہے۔مکرم مولانا سلطان محمود