تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 784
۷۸۴ پڑھی۔بعدہ درج ذیل علماء نے حاضرین سے خطاب فرمایا۔(1) مکرم مولانا سید حسین احمد صاحب مربی کراچی ، ضرورت مطالعہ کتب حضرت اقدس (۲) مکرم مولا نا ملک محمد سلیم صاحب مربی کراچی ،نماز کے طریق اور آداب (۳) مکرم مولانا نور الدین صاحب منیر سابق وکیل التصنیف و تعلیم تحریک جدید ، سپین میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد۔اس کے بعد حاضرین نے چائے نوش فرمائی۔وو چوتھا اجلاس زیر صدارت مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف منعقد ہوا۔تلاوت قرآن کریم مکرم مولا نا لئیق احمد صاحب منیر مربی کراچی نے کی۔بعدۂ ” برکات خلافت کے موضوع پر اطفال الاحمدیہ ضلع کراچی کا تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔جس میں ہر مجلس کے ایک ایک طفل نے شرکت کی۔اس مقابلے کے منصفین مکرم مولانا عبدالمنان صاحب شاہد، مکرم مولا نا لئیق احمد صاحب منیر اور مکرم آفتاب احمد صاحب بسمل تھے۔مجلس عزیز آباد کے طفل عزیزم فاتح الدین ابن مکرم رشید الدین صاحب اول آئے۔اس کے بعد مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی جس میں جوابات مربیان کرام نے دیئے۔تقسیم انعامات: آخر میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی اور درج ذیل مجالس نے انعامات حاصل کئے۔(۱) شید تعلیم القرآن اول مجلس ناظم آباد دوم مجلس عزیز آباد (۲) اصلاح و ارشاد اول: مجلس ناظم آباد دوم مجلس ڈرگ روڈ (۳) حاضری اجتماع اوّل: مجلس عزیز آباد دوم مجلس ڈرگ روڈ (۴) امتحانی پرچہ جات کی ترسیل اول مجلس ناظم آباد دوم مجلس مارٹن روڈ سوم مجلس ڈرگ روڈ (۵) مقابله رنگ اوّل: مجلس مارٹن روڈ (۶) مقابلہ والی بال ( بین المجالس ) اول مجلس عزیز آباد اختتامی خطاب میں مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے فرمایا کہ مذہب میں شرط اور سودے بازی نہیں ہوتی بلکہ اطاعت بلا شرط ہے۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کے صحابہ کرام کے عشق و وفا کے دلنشین واقعات سنائے جن سے حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔پھر فرمایا کہ جو خلافت سے علیحدہ ہوا اس کا انجام آپ کے سامنے ہے۔اسلام اور احمدیت کے ساتھ وہ وابستگی پیدا کرو جو حضرت بلال نے دکھائی اور جو حضرت سیّد عبد اللطیف صاحب شہید نے دکھائی تھی۔آخر میں مکرم نعیم احمد خان صاحب ناظم ضلع کراچی نے خطاب کیا۔انہوں نے تمام حاضرین ، عہدیداران ضلع اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔بعدہ مکرم مولانا سیف صاحب نے اجتماعی دُعا فرمائی۔اس طرح یہ با برکت اجتماع کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔اس اجتماع میں انصار کی حاضری ساڑھے چار صد تھی اور کل حاضرین کی تعداد پونے چھ صدر ہی۔۳۶)