تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 713 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 713

۷۱۳ دستور اساسی مجلس انصار اللہ کا دستور اسای سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثائ کی رہنمائی میں تیار ہوکرحضورانور کی منظوری سے پہلی مرتبہ ۱۲۱ اکتوبر ۱۹۵۷ء سے نافذ ہوا اور اپریل ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا۔بعد میں وقتاً فوقتاً اس میں جو ترامیم ہوتی رہیں، انہیں دستور اساسی کے آئندہ ایڈیشنز میں شامل کیا جاتا رہا۔دستور اساسی کا دوسرا ایڈیشن جولائی ۱۹۶۴ء میں اور تیسرا ایڈیشن مئی ۱۹۷۱ء میں طبع ہوا۔مجالس بیرون کی رہنمائی کے لئے دستور اساسی کا انگریزی ترجمہ ۱۹۶۸ء اور ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا۔دستور اساسی کا چوتھا ایڈیشن اکتوبر ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا اور اس میں اس وقت تک کی تمام ترامیم اور اضافہ جات شامل کر لئے گئے۔تاریخ دستور اساسی ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۹ء تشکیل دستور کمیٹی پس منظر۔اغراض و مقاصد مجلس شوری ۱۹۸۱ء میں مجلس رجوعہ ضلع جھنگ کی طرف سے حسب ذیل تجویز پیش ہوئی۔دستور اساسی میں بعض سقم اور تضاد معلوم ہوتے ہیں جن کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ مجلس شوریٰ انصار اللہ ماہرین دستور سازی اور اردو دان حضرات کی ایک کمیٹی قائم کرے جو دستور اساسی کو از سر نو تر تیب دے کر مجلس عاملہ مرکزیہ میں پیش کرے۔“ بحث کے دوران حضرت مرزا عبد الحق صاحب رکن خصوصی عاملہ مرکزیہ نے تجویز کے الفاظ کو زیادہ موزوں شکل دینے کی تجویز پیش کی جسے شوری نے منظور کیا اور تجویز کے الفاظ یوں قرار پائے : دستو را ساسی پر دوبارہ تفصیلی غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جائے تا اگر اس میں کوئی سقم یا اشکال ہوں تو ان کو ڈور کیا جا سکے۔کمیٹی یہ رپورٹ مجلس عاملہ مرکز یہ میں چھ ماہ کے اندر پیش کرے اور مجلس عاملہ مرکز یہ اس پر غور کرنے کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بغرض منظوری پیش کرے۔“ اس موقع پر مکرم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب رکن خصوصی عاملہ مرکزیہ کی پیش کردہ رائے پر مجلس شوری نے مزید فیصلہ کیا کہ :