تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 685
۶۸۵ فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح": "الحمد للہ منظور ہے۔اللھم زدوبارک“ دستخظ حضورانور ۱۹۸۵-۱۲-۲۵ نیز فرمایا کہ اس بجٹ میں بیرون پاکستان کی مجالس کا بجٹ کیوں شامل نہیں کیا گیا ؟ سب مجالس کا بجٹ شامل کیا جا سکتا ہے۔اکثر مجالس قائم ہیں۔ان کا بجٹ بنوا کر شامل بجٹ مرکزی کرنے کے لیے کارروائی کی جائے۔بہت بڑی رقم قربانی کی پیش ہو رہی ہے لیکن رپورٹ اور بجٹ میں شامل نہیں ہو رہی۔( بحوالہ چھٹی 6807 LA از مکرم چوہدری مبارک مصلح الدین احمد صاحب وکیل المال الثانی ۱۹۸۵-۱۲-۲۸ لندن ) ١٩٨٦ء تجویز نمبر ( قیادت عمومی): صد سالہ احمد یہ جوبلی کے موقع پر جماعت کی طرف سے مختلف صورتوں میں صدقات کی تحریک کی جارہی ہے۔مجلس انصار اللہ کی طرف سے اس موقع کی مناسبت سے صدقہ جاریہ پیش کرنے کے سلسلہ میں مجلس شوری مشورہ دے کہ صدقہ کی نوعیت کیا ہو اور کیا طریق اختیار کیا جائے۔( قیادت عمومی مجلس انصاراللہ پاکستان) سفارش شوری : شوری اتفاق رائے سے سفارش کرتی ہے کہ صد سالہ جو بلی کی مناسبت سے مجلس انصار اللہ تھر پارکر میں ایک چھوٹا ہسپتال مع ساز و سامان بنا کر انجمن وقف جدید کے سپرد کر دے۔اندازہ ہے کہ آٹھ یا دس بستر کا ایسا ہسپتال بمع ساز و سامان تقریباً دس لاکھ روپے میں تیار ہو سکے گا۔دس لاکھ روپے کی رقم انصار اللہ کے اراکین بطور عطیہ دیں۔ہسپتال کے لئے مقام کا تعین انجمن وقف جدید کے مشورہ سے کیا جائے۔دیگر تفصیلات مجلس انصاراللہ مرکز یہ طے کرے۔سفارش صدر مجلس : منظوری کی سفارش ہے۔صرف سات لاکھ بطور عطیہ اکٹھے کرنا ہوں گے۔تین لاکھ روپے مجلس مرکز یہ اپنی بچت سے ادا کر دے گی۔انشاءاللہ فیصلہ حضرت خلیفہ اسے ": " منظور ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء دستخط حضورانور ۸۶-۱۲-۱۱ تجویز نمبر ۲ ( قیادت مال) بجٹ آمد وخر چ سال ۱۹۸۷ء 17۔72۔000 مبلغ سولہ لاکھ سڑسٹھ ہزار روپے سفارش شوری: شوری حسب ذیل تفصیل کے مطابق مجوزہ بجٹ آمد و خرچ برائے سال ۱۳۶۶ ہش/ ۱۹۸۷ء منظور کئے جانے کی سفارش کرتی ہے۔۲۳۴۲۹۴ ۴۲۶۵۰۰ ۳۰۸۰۰۰ خرچ عمله سائر گرانٹ مقامی مجالس 11۔۔۔۔۔۱۳۰۰۰۰ ۶۰۰۰۰ آمد چنده مجلس اجتماع اشاعت لٹریچر